تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 252
تاریخ احمدیت۔جلد 22 252 سال 1963ء آپ کے والد جمال الدین صاحب سلسلہ کے سخت مخالف تھے آپ نے اُن کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت اقدس میں درخواست دعا کی۔حضرت نے فرمایا تم دعاؤں میں لگے رہو اور ہم بھی دعائیں کریں گے۔اللہ تعالیٰ دعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا۔اس کے بعد آپ کے والد سولہ سال برابر مخالفت پر ڈٹے رہے۔آپ نے ایک دفعہ ان کو تحریک کی کہ آپ کم از کم قادیان کا جلسہ دیکھو کیونکہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں جواب دیا کہ مجھ سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جب تک حق اور جھوٹ نہ دیکھوں مجھے موت نہیں آئے گی۔تمہارے کہنے پر ہرگز نہیں جاؤں گا۔چنانچہ پھر وہ اپنی مرضی سے ہی جلسہ پر گئے اور جلسہ کے دوران ہی بیعت کر لی اور ایک سال زندہ رہ کر مارچ ۱۹۲۴ء میں فوت ہو گئے۔73 حضرت سید مبارک علی شاہ صاحب باہری لدھیانوی ولادت : ۱۸۸۴ ء یا ۱۸۸۵ء بیعت دستی : ۱۹۰۵ء بیعت بذریعہ خط : ۱۹۰۳ء وفات : ۱۰ / اپریل ۱۹۶۳ء آپ کو سلسلہ احمدیہ کے فدائی بزرگ حضرت قاضی خواجہ علی صاحب لدھیانوی کے برادر نسبتی ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔طالب علمی کے زمانہ میں احمدیت کے شدید مخالف تھے اور مولویوں کے فتوؤں کے مطابق احمدیوں کے پاس بیٹھنا، ان کی بات سنا اور ان کی کتابیں پڑھنا گناہ سمجھتے تھے۔اگر حضرت قاضی صاحب گھر تشریف لاتے تو وہ دوسرے دروازے سے نکل جاتے اور جب وہ گھر میں موجود رہتے آپ کھانا کھانے بھی نہیں آتے تھے مگر چونکہ فطرت میں سعادت تھی خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے اُن کا رخ یکا یک احمدیت کی طرف کر دیا اور آپ ملاؤں کے فتاوی کو بالائے طاق رکھ کر احمدیہ مسجد میں نماز پڑھنے لگے۔شاہ صاحب کے خود نوشت حالات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فوری تبدیلی ایک کتاب تذکرہ غوثیہ کے ایک مقام کو دیکھنے سے واقع ہوئی جہاں” لیتـــركــن الــقـلاص فلا يسعى عليها “ کی حدیث رقم تھی۔اس روحانی انقلاب کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب سے پہلی تصنیف لطیف جو آپ کے مطالعہ میں آئی وہ تحفہ گولڑوی تھی۔ازاں بعد آپ کو حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی کتاب سلک مروارید پڑھنے کا موقعہ ملا۔۱۹۰۵ء میں آپ قادیان تشریف لے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر شرف بیعت حاصل کیا۔شاہ صاحب کا بیان ہے کہ:۔وو 76