تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 246 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 246

تاریخ احمدیت۔جلد 22 246 سال 1963ء اولاد: (۱) محترمہ صالحہ فاطمہ صاحبہ مرحومه خوشدامن صاحبہ مولوی محمد صدیق صاحب انچارج خلافت لائبریری ربوه (۲) صلاح الدین صاحب مرحوم (۳) محمد علیم الدین صاحب (وفات ۳۰ را گست ۱۹۹۸ء ) بی اے، ایل ایل بی سابق اسسٹنٹ فنانشل ایڈوائز رفنانس ڈیپارٹمنٹ مرکزی حکومت پاکستان و امیر جماعت احمد یہ اسلام آباد (۴) مولوی حکیم محمد الدین صاحب مبلغ سلسلہ احمدیہ۔۲۰۱۱ء سے صدر، صدر انجمن احمد یہ قادیان (۵) عطاء اللہ صاحب مرحوم (۲) محترم رشید الدین صاحب زعیم اعلیٰ انصار اللہ کراچی ( وفات ۱۰ / فروری ۱۹۹۹ء) (۷) صفیہ بیگم صاحبہ اہلیہ جناب بشیر احمد صاحب کپور تھلوی حضرت منشی عبدالخالق صاحب کپور تھلوی ولادت ۱۸۸۵ء بیعت و زیارت : ۱۹۰۲ ء وفات : ۲۴ فروری ۱۹۶۳ء۔آپ کے والد ماجد مولوی محمد حسین صاحب ( ساکن پریم چیت پور علاقہ ریاست کپورتھلہ ) 56 ۳۱۳ صحابہ کبار میں سے تھے جن کا نام حضرت اقدس علیہ السلام نے ۱۳۵ نمبر پر درج فرمایا ہے۔خود لکھتے ہیں میں ۱۹۰۳ء ۱۹۰۴ء میں قادیان میں تعلیم پاتا رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت سے معجزات تابعدار نے اپنی آنکھوں دیکھے اور ایمان تازہ ہوتا رہا۔“ نی تحریر فرماتے ہیں:۔”خاکسار نے حضور علیہ السلام کے ساتھ اکثر بلکہ بہت کثرت سے نمازیں ادا کی ہیں۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اور بعد میں حضرت مولوی نورالدین صاحب اعظم خلیفہ اول امامت کرایا کرتے تھے اور حضور علیہ السلام امام کے داہنے طرف کھڑے ہو کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے بعد نماز حضور علیہ السلام اکثر تشریف فرما مسجد میں ہی ہوتے تھے۔مختلف مسائل اور مہمانوں کے سوالات کا جواب حضور فرمایا کرتے تھے جو ایمانی ترقی کا موجب ہوتا تھا۔سیر میں بھی حضور علیہ السلام مسائل بیان فرمایا کرتے تھے۔حضور علیہ السلام سیر میں تیز قدم جاتے تھے۔حضرت مولوی عبداللطیف صاحب شہید کو جب حضور علیہ السلام کا بل کے لئے رخصت فرمانے لگے تو خاکسار ہمراہ گیا تھا۔کئی دفعہ خاکسار نے حضور علیہ السلام کو چندہ دیا۔کئی دفعہ اندر بھیج دیا جس پر حضور علیہ السلام نے اپنی قلم سے تحریر فرمایا ہوا تھا کہ رقم پہنچ گئی۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔افسوس ہے کہ وہ مبارک تحریر میں جو میرے