تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 247 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 247

تاریخ احمدیت۔جلد 22 247 سال 1963ء 57 اور میری اولا د اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے موجب ازدیاد ایمان ہوتیں گم ہو گئیں۔خاکسار نے حضور علیہ السلام کی صحبت میں ایمانی ترقی کی۔محترم منشی صاحب نے شروع میں ریاست کپورتھلہ میں پٹواری کے طور پر ملازمت شروع کی۔بعض دفعہ قائمقام گرداور اور قائم مقام نائب تحصیلدار بھی ہوئے۔۱۹۲۲ء میں ملازمت ترک کر کے مستقل طور پر قادیان تشریف لے آئے اور عرصہ دراز تک حضرت سید میر محمد الحق صاحب کی زیر نگرانی نظارت ضیافت قادیان کے کارکن کی حیثیت سے لنگر خانہ میں خدمات بجالاتے رہے اور اس فرض کو نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دیا۔تحریک شدھی کے زمانہ میں آنریری مبلغ اسلام کے طور پر علاقہ ملکانہ میں کام کیا۔آپ اس دور کے بہت ایمان افروز واقعات سنایا کرتے تھے۔لنگر خانہ کے بعد آپ لمبے عرصہ تک بورڈنگ مدرسہ احمدیہ میں اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ رہے۔ہجرت ۱۹۴۷ء کے بعد شروع شروع میں ربوہ سے متصل احمد نگر میں مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کا آغاز ہوا۔ان دنوں اکثر اساتذہ اور کارکنان کا قیام احمد نگر میں تھا۔حضرت منشی عبد الخالق صاحب بھی مستقل طور پر یہیں رہائش پذیر ہو گئے۔آپ نماز با جماعت کے بہت پابند تھے۔جب آپ مسجد میں دو ایک نمازوں میں نظر نہ آتے تو اندازہ ہوتا تھا کہ یا سفر پر گئے ہیں یا بیمار ہیں چنا نچہ ایسا ہی ہوتا۔آپ کا وجود مسجد کی رونق تھا۔حد درجہ ملنسار، خلیق، ہنس مکھ ، زندہ دل اور شگفتہ مزاج تھے۔مہمان نوازی کا بہت جذبہ تھا۔آپ کی یہ نمایاں خوبی تھی کہ ناراضگی کو دل میں جگہ نہیں دیتے تھے اور انہیں اپنے قصور وار کو معاف کرنے میں خوشی محسوس ہوتی تھی اور اگر یہ کہ دیا جاتا کہ قصور آپ کا ہے تو وہ خود معذرت کرنے میں ہمیشہ سبقت لے جاتے تھے۔جماعتی تحریکات میں بالعموم اپنی طاقت سے بڑھ کر حصہ لیتے تھے۔اپنے دوستوں کے نہایت مخلص دوست تھے اور تکلیف اٹھا کر بھی اُن کی امداد کرتے تھے۔زندگی کے آخری سالوں میں آپ کو بہت تنگدستی در پیش تھی مگر آپ نے ہر حالت میں مومنانہ صبر اور حوصلہ کا نمونہ دکھایا۔اخلاص کا یہ عالم تھا کہ پہلے آپ کی وصیت ۱/۱۰ کی تھی مگر آخری سالوں میں ۵ احصہ کی کر دی تھی۔مرض الموت کے دوران ضعف بہت ہو گیا مگر چہرہ پر مسکراہٹ رہتی تھی۔آپ نے اپنے پیچھے ایک بیوہ چار بیٹے اور چار بیٹیاں بطور یاد گار چھوڑیں۔58