تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 221 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 221

تاریخ احمدیت۔جلد 22 221 سال 1963ء کہ نماز پڑھ لی جاوے سب نے وضو کیا۔نماز کے لئے چٹائیاں کچھیں۔حاضرین منتظر تھے کہ حسب دستور سابقہ کسی حواری کو امامت کے لئے ارشاد فرماویں گے کہ اس اثناء میں خود حضرت امام الزمان علیہ السلام امامت کے لئے آگے بڑھے اور اقامت کہے جانے کے بعد آپ نے نماز ظہر اور عصر قصر اور جمع کر کے پڑھائیں حضور علیہ السلام کو امام اور خود کو مقتدی پا کر حاضرین کے دل باغ باغ تھے۔ان مقتدیوں میں کئی ایسے اصحاب تھے جن کی ایک عرصہ سے آرزو تھی کہ کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز میں خودامام ہوں اور ہم مقتدی۔اُن کی امید آج بر آئی اور مجھ پر بھی یہ راز کھلا کہ امام نماز کی جس قدر توجہ الی اللہ زیادہ ہوتی ہے۔اسی قدر جذب قلوب بھی زیادہ ہوتا ہے۔چونکہ خدا کے فضل سے اس مبارک نماز میں میں خود بھی شریک تھا۔اس لئے دیکھا گیا کہ بے اختیار دلوں پر عاجزی اور فروتنی اور حقیقی بجز وانکسار غالب آتا جاتا تھا اور دل اللہ تعالیٰ کی طرف کھچا جاتا تھا اور اندر سے آواز آتی تھی کہ دعا مانگو۔قلب رقیق ہو کر پانی کی طرح بہہ بہہ جاتا تھا اور اس پانی کو آنکھوں کے سوا اور کوئی راستہ نکلنے کو نہ ملتا تھا اور اس مبارک وقت کے ہاتھ آنے پر شکر یہ الہی میں دل کو ہرگز گوارا نہ تھا کہ سجدہ سے سر اٹھایا جاوے غرضیکہ عجیب کیفیت تھی اور ایک متقی امام کے پیچھے نماز ادا کرنے سے جو جو بخششیں اور رحمت از روئے حدیث شریف مقتدیوں کے شامل حال ہوتی ہیں ان کا ثبوت دست بدست مل رہا تھا چونکہ یہ ایک ایسا عجب وقت تھا جس کے میسر آنے کی عمر بھر میں بھی امید نہ تھی۔اور محض فضل ایزدی سے ہمیں اور چند ایک دیگر احباب ملت کو میسر آ گیا اس لئے مناسب ہے کہ اس مبارک وقت کے موجودہ مقتدیوں کے نام قلمبند کر دیئے جائیں۔جن کی خدا تعالیٰ نے اس طرح عزت افزائی فرمائی اور آئندہ نسلوں کے لئے یہ ایک یادگار رہ جائے۔اُن اصحاب کی فہرست جنہوں نے حضرت امام الزمان علیہ السلام کے مقتدی بن کر نماز ادا کی۔(۱) محمد یوسف صاحب طالب علم پشاور اسلامیہ سکول ہائی کلاس (۲) مولوی عبد العزیز صاحب منتظم ساکن گوہد پور سیالکوٹ (۳) محمد ابراہیم صاحب کلارک ساکن گوہد پورسیالکوٹ (۴) عطا محمد صاحب زمیندار سا کن گوہد پورسیالکوٹ (۵) خلیفہ نورالدین صاحب سٹیشنری شاپ جموں (۶) عبدالرحیم صاحب ولد خلیفہ نورالدین صاحب