تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 220 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 220

تاریخ احمدیت۔جلد 22 220 سال 1963ء حضرت قاضی صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے والدین سے حاصل کی۔۹۶-۱۸۹۵ء میں بارہ سال کی عمر میں مشن ہائی سکول پشاور میں داخل ہوئے۔۱۹۰۱ء میں اسلامیہ ہائی سکول پشاور میں داخلہ لیا۔۱۵ جنوری ۱۹۰۲ء میں اپنے انگریزی کے استاد حضرت منشی خادم حسین صاحب بھیروی کی تحریک پر بیعت کا خط لکھا۔آپ پہلی بار قادیان دارالامان ۲۴ دسمبر ۱۹۰۲ء کو تشریف لے گئے۔جلسہ سالانہ میں شرکت کی اور حضرت اقدس علیہ السلام کے دست مبارک پر مسجد مبارک میں بیعت کا شرف حاصل کیا۔یہی وہ بابرکت ایام تھے جبکہ حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب رئیس اعظم خوست اپنے شاگردوں سمیت قادیان میں موجود تھے اور مہمان خانہ میں آپ کے مقابل کے کمرے میں رونق افروز رہتے تھے۔قادیان سے واپسی کے بعد آپ نے زور وشور سے احمدیت کا پیغام پہنچانا شروع کر دیا۔شاہی باغ میں اسلامیہ ہائی سکول، ہمشن ہائی سکول ، میونسپل بور ڈ ہائی سکول ،نیشنل ہائی سکول کے فٹبال گراؤنڈ قریب قریب تھے۔اسلامیہ ہائی سکول کے طلباء کے ذریعہ باقی سکولوں کے طلباء کو بھی آپ کے احمدی ہونے کا علم ہو گیا اور پھر تمام شہر میں آپ کی شہرت ہوگئی اور شاہی باغ تبلیغ احمد بیت کا مرکز بن گیا جس کے نتیجہ میں میرزا شربت علی صاحب ان کے برادر بزرگ امیر خسرو اور مولانا محمد یعقوب خاں صاحب بی اے (ایڈیٹر لائٹ ) جیسے متدین وجود احمدی ہو گئے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک زمانہ میں آپ متعدد بار قادیان تشریف لے گئے۔جون جولائی ۱۹۰۴ء میں آپ کو پہلے قادیان اور پھر گورداسپور میں جانے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے فیض حاصل کرنے کا زریں موقعہ ملا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اقتداء میں نماز قیام گورداسپور کے دوران ۲۱ جولائی ۱۹۰۴ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ظہر وعصر کی نماز قصر اور جمع کر کے خود پڑھائیں۔یہ ایک یاد گار اور تاریخی موقعہ تھا۔اس مبارک نماز میں ہیں بزرگوں کو حضرت امام الزمان علیہ السلام کے پیچھے نماز ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔جن میں اول نمبر پر حضرت قاضی صاحب تھے۔چنانچہ ایڈیٹر صاحب "بدر" حضرت بابو محمد افضل صاحب نے لکھا:۔ایک بجے کا وقت تھا کہ حضرت امام الزمان علیہ السلام نے چند ایک موجود خدام کو ارشاد فرمایا