تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 198 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 198

تاریخ احمدیت۔جلد 22 198 سال 1963ء تم لوگ قادیان جو احمدیت کا مرکز ہے اس میں بیٹھے ہو۔تم خوش قسمت ہو۔میں اس سے محروم ہوں۔دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ تمہیں اسلام کی خدمت کی توفیق دے۔آمین۔مرزا محمود احمد غارت اسیح الثانی ۱۳ دسمبر ۱۹۶۳ء (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا وجد آفرین پیغام حضرت مصلح موعود نے حضرت قمر الانبیاء کے وصال کے بعد ناظر خدمت درویشاں کا عہدہ ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو عطا فرمایا تھا اس لئے (حضرت ) صاحبزادہ صاحب نے بھی ناظر خدمت درویشاں کی حیثیت سے اس جلسہ پر درج ذیل پیغام بھجوایا جو قریشی صاحب موصوف ہی نے پڑھ کر سنایا۔دیار مسیح کے خوش بخت مکینو! اور دیار حبیب کی زیارت کی سعادت پانے والو! تم پر بہت بہت سلام ہوں اور بے شمار صلوۃ وسلام ہوں تمہارے مطاع محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کی رُوح بنی نوع انسان کی بھلائی اور خیر خواہی کے لئے تڑپی اور بے قرار ہوئی اور آستانہ الوہیت پر جھکی اور گداز ہوئی۔اور جن کی تضرعات نے عرش رب کریم کو ہلایا۔اور خدائے ذوالمجد والعلیٰ نے جن کی تضرعات کو سنا اور تکمیل ہدایت اور تکمیل اشاعت ہدایت کے سامان آسمان سے پیدا کئے۔اور جہاں قرآن کریم جیسی کامل اور مکمل اور ابدی ہدایت نازل فرمائی۔وہاں ہمارے اس زمانے میں تکمیل اشاعت ہدایت کے لئے اُس نے حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کو فنا فی الرسول کا مقام حاصل کرنے کی سعادت عطا کی۔اور اس کی توفیق سے آپ کا حساس اور عاشق رسول دل اسلام اور بنی نوع انسان کی ہمدردی میں پگھلا اور گداز ہوا۔اور خدائے رحمان کی رحمت جوش میں آئی۔اس طرح خدا تعالیٰ کی بے پایاں رحمت نے آپ ہی کے ذریعہ تکمیل اشاعت ہدایت کی بنیاد رکھی اور زمین قادیان محترم“ بنائی گئی ہے۔مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے ظل کے طور پر ارضِ حرم ٹھہری جس کے الدار کا خدائے قادر و توانا خود محافظ بنا۔اور اس مبارک بستی کو خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے اپنی پناہ میں لے لیا۔اس بستی نے زندہ خدا کے زندہ نشان ہزاروں کی تعداد میں دیکھے اور اس میں بسنے والے جو صدق و صفا اور محبت و وفا سے اپنے ایمانوں پر ثابت قدم رہے۔مہبط انوار الہی بنے اور دنیا کے لئے ایک نمونہ مثال ٹھہرے اور حجتہ اللہ علی الارض قرار پائے۔اس پیاری بستی کے تم مکین ہو اور