تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 197
تاریخ احمدیت۔جلد 22 197 سال 1963ء کے صدر جناب جمال عبدالناصر کی خدمت میں ایک تار ارسال کیا۔جس میں جماعت احمدیہ پاکستان کی طرف سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا۔اس کے جواب میں صدر موصوف نے ایک برقی پیغام کے ذریعہ جماعت احمدیہ پاکستان کا نہایت پر خلوص طور پر شکر یہ ادا کیا۔برقی پیغام درج ذیل ہے۔قاہرہ19دسمبر۔حکومت متحدہ عرب جمہوریہ بخدمت ناظر صاحب امور خارجه احمدیہ۔۔۔۔کمیونٹی۔ربوہ (پاکستان) شیخ شلتوت مرحوم کی وفات پر آپ نے جماعت احمدیہ کی طرف سے جس مخلصانہ طریق پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔میں اس پر آپ کا اور جملہ افراد جماعت کا نہایت پر خلوص طور پر شکر یہ ادا کرتا ہوں۔اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔جمال عبد الناصر حضرت مصلح موعود کا جلسہ سالانہ قادیان کے لئے روح پرور پیغام مرکز احمدیت قادیان میں جماعت احمدیہ کا بہتر واں سالانہ جلسہ ۱۸-۱۹۔۲۰ دسمبر ۱۹۶۳ء کو اپنی شاندار روایات کے ساتھ منعقد ہوا۔اس روحانی اجتماع میں ہندوستان کے سینکڑوں مخلصین احمدیت کے علاوہ پاکستان کے قریباً دو سوا حباب قریشی محمود احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر قافلہ کی معیت میں وارد قادیان ہوئے اور جلسہ کی برکات سے مستفید ہونے کی سعادت حاصل کی۔علاوہ ازیں ۱۲۷ دوست انفرادی پاسپورٹ پر پاکستان اور دیگر ممالک سے شامل جلسہ ہوئے۔احمدیوں کے علاوہ غیر احمدی حضرات اور غیر مسلم دوستوں نے بھی تمام معلومات افروز تقاریر پوری توجہ اور دلچسپی سے سنیں۔حضرت مصلح موعود نے اس مقدس جلسہ کے لئے حسب ذیل پیغام ارسال فرمایا جو محترم قریشی محمود احمد صاحب نے افتتاحی اجلاس میں پڑھ کر سنایا۔دو بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود درویشان قادیان! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ