تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 145
تاریخ احمدیت۔جلد 22 145 سال 1963ء تکلیف ہے آکر برآمدہ میں بیٹھ گئے اور میرے حالات بڑی توجہ سے سنے اور فرمایا میں آپ کے لئے ضرور دعا کروں گا اپنی ایسی بیماری کی حالت میں ایک غیر معروف شخص کی خاطر اس طرح باہر چلے آنا آپ کی ہمدردی بنی نوع انسان کے خاصہ کی ایک مثال ہے۔میں نے بیسیوں مرتبہ یہی کیفیت دیکھی ہے۔اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتے تھے تا لوگوں کو سکھ نصیب ہو۔اور ان کے ہر قسم کے معاملات میں گہری دلچسپی لے کر ان سے پوری ہمدردی فرماتے تھے مشورہ بھی دیتے تھے اور جہاں ہو سکے امداد بھی فرماتے تھے۔یہ سلسلہ صرف ملاقات تک محدود نہ تھا بلکہ اس سلسلہ میں بے شمار خطوط آتے تھے اور آپ ہر ایک کو بغیر تو قف جواب دیتے تھے۔چنانچہ اس آخری بیماری میں بھی یہ سلسلہ جاری رکھا اور تعزیت کے خطوط میں ایک صاحب نے لکھا کہ میاں صاحب کا خط ان کی وفات کی خبر کے بعد انہیں ملا۔دوستوں سے ہمدردی کرتے وقت بڑی شفقت اور نرمی سے اپنا ہاتھ دوسرے کے کندھے پر مخصوص انداز میں رکھتے تھے اور دلاسا دیتے تھے۔اس کا اندازہ وہی کر سکتے ہیں۔جنہیں اس کا تجربہ ہوا ہو۔آپ کی بے پایاں شفقت جہاں دوسروں کے لئے تھی۔وہاں اپنے دوستوں کے لئے اور زیادہ ہوتی تھی اور اس نیک سلوک اور مروّت کا سلسلہ اپنے دوستوں کی اولادوں تک کے لئے قائم رکھتے تھے۔ایک دوست نے مجھ سے بیان کیا کہ اپنی والدہ محترمہ (اہلیہ حکیم قطب الدین صاحب) کا جنازہ وہ ربوہ لے کر گئے۔رات کے ساڑھے تین بجے کے قریب پہنچے۔حضرت میاں صاحب کو اطلاع ملی۔اسی طرح رات کو تشریف لے آئے اور تجہیز و تکفین تک میں شامل رہے اور ہر طرح ان کے غم میں شریک رہے اور ہمدردی فرماتے رہے۔اسی طرح صوفی عبدالرحیم صاحب لدھیانوی نے بیان کیا کہ ان کی والدہ (میر عنایت علی شاہ صاحب کی اہلیہ) کا تابوت جب وہ تدفین کے لئے لائے تو ابا جان نے کمال ہمدردی سے ان کے غم میں شرکت کی اور فرمانے لگے کہ میر صاحب کو تو ہم اپنے گھر کا فرد سمجھتے ہیں۔اسی طرح اپنے بچوں کے دوستوں سے بھی بہت شفقت کا سلوک رکھتے تھے اور ان کا خاص خیال کرتے تھے پچھلے ایام میں جب ہمارے دوست کرامت اللہ صاحب کراچی میں شدید بیمار ہوئے اور اپریشن کے لئے انگلستان گئے تو ابا جان ان کے لئے بہت دعا کرتے تھے اور دوسروں کو بھی تاکید سے دعا کے لئے کہتے تھے۔خود کرامت اللہ صاحب کو خط میں لکھا کہ ”میں تو آج کل آپ کے لئے مجسم دعا بن گیا ہوں پھر دوبارہ جب کرامت صاحب علاج کی غرض سے انگلستان تشریف لے گئے تو پھر ان کی بیماری کا شدید احساس تھا اور جہاں خود بھی دعا کرتے تھے وہاں دوستوں کو بھی تحریک کرتے