تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 146 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 146

تاریخ احمدیت۔جلد 22 146 سال 1963ء تھے اور بالکل ایسے رنگ میں اور اضطراب سے کرتے تھے کہ جیسے کوئی اپنا بچہ بیمار ہو۔ہم بہن بھائیوں سے بھی بہت شفقت کا سلوک فرماتے تھے۔اولاد کا احترام کرتے تھے اور جب کبھی ہم باہر سے جلسہ وغیرہ اور دوسرے مواقع پر گھر جاتے تھے تو ہر ایک کے لئے بہت اہتمام فرماتے تھے خود تسلی کرتے تھے کہ سونے والے کمرہ میں بستر وغیرہ ہر چیز موجود ہے۔غسل خانے میں پانی، صابن، تولیہ موجود ہے۔یوں احساس ہوتا تھا کہ جیسے کسی برات کا اہتمام ہو رہا ہے اور ہمیں شرم آتی تھی لیکن خود ذ وقایہ اہتمام فرماتے تھے۔ہم واپس جاتے تو کمرے میں آکر دیکھتے کہ کوئی چیز بھول کر چھوڑ تو نہیں گئے۔اگر کچھ ہوتا تو اسے حفاظت سے رکھوا دیتے اور ہمیں اطلاع ضرور دیتے کہ فلاں چیز تم یہاں چھوڑ گئے ہو میں نے رکھوالی ہے پھر آؤ تو یاد سے لے لینا۔مجھے فرمایا کرتے تھے کہ بچوں کی تربیت کے معاملہ میں میرا وہی طریق ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا۔میں انہیں نصیحت کرتا رہتا ہوں۔لیکن دراصل سہارا خدا کی ذات ہے جس کے آگے جھک کر میں دعا گور ہتا ہوں کہ وہ تم لوگوں کو اپنی رضا کے راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمادے اور دین کا خادم بناوے۔ہمیں جب بھی نصیحت فرماتے تو اس میں اس بات کو محوظ رکھتے کہ سبکی کا پہلو نہ ہو۔فرمایا کرتے تھے کہ اگر نصیحت ایسے رنگ میں کی جاوے کہ دوسرے کی خفت ہو تو وہ ٹھیک اثر پیدا نہیں کرتی بلکہ بعض دفعہ الٹا نتیجہ پیدا کرتی ہے۔مجھے یاد ہے کہ بچپن میں جب بھی میری کوئی حرکت پسند نہ آئی تو اس کے متعلق تفصیل سے خط لکھتے تھے اور بڑے مؤثر اور مدلل طور پر نصیحت فرماتے تھے۔کسی خادمہ یا چھوٹے بچے کے ہاتھ خط اس ہدایت سے بھیجتے کہ پڑھ کر اسے واپس کر دو۔اس طریق میں ایک پہلو تو یہی ہوتا تھا کہ دوسروں کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ یا نصیحت کا اچھا اثر نہ پڑے گا اور دوسرے بعض مواقع پر شاید حجاب بھی مانع ہوتا ہو۔ہم بہن بھائیوں کو دین کے کسی معاملہ میں دلچسپی لینے اور کام سے بہت خوش ہوتے تھے اور اپنی خوشی کا اظہار بھی فرماتے تھے اور یہی خواہش رکھتے تھے کہ دنیوی زندگی کا حصہ ایک ثانوی حیثیت سے زیادہ اہمیت حاصل نہ کرے۔والدہ کی گذشتہ سات سالہ لمبی بیماری کے دوران میں جس میں بعض ایام میں بیماری کی شدت اور تکلیف بہت بڑھ جاتی تھی۔آپ نے جس خوشی اور صبر و تحمل سے ان کی تیمارداری کی وہ آپ ہی کا