تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 144 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 144

تاریخ احمدیت۔جلد 22 144 سال 1963ء ہوئے۔اس دوست نے ابا جان کو ایک ذریعہ سے پیغام بھجوایا کہ میں ملنے آنا چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا حضرت صاحب اس سے ناراض ہیں آپ کہہ دیں کہ پہلے حضرت صاحب سے معافی لے، میں پھر ملوں گا یوں نہیں مل سکتا۔ابا جان کی زندگی کا ایک اور نمایاں پہلو بنی نوع انسان کی ہمدردی تھا۔میں نے آپ جیسا شفیق انسان اور کوئی نہیں دیکھا۔ہر آن اسی کوشش میں رہتے تھے کہ کسی نہ کسی رنگ میں لوگوں کے کام آ سکیں آپ کا دروازہ ہر دردمند کے لئے کھلا رہتا تھا۔لوگوں کی تکالیف اور ان کی پریشانیوں کے بیان کو بڑے تحمل سے سنتے تھے اور اپنی طاقت اور موقع کے مطابق امدادفرماتے تھے کسی کو اس کے بچوں کی تعلیم کے لئے مشورہ دے رہے ہیں۔کسی کو ملازمت کے لئے کسی کو علاج معالجہ کے لئے کسی کو مقدمات کی پریشانی کے بارے میں کسی کو کاروبار اور تجارت میں کسی کو رشتہ کے بارے میں، ہر ضرورت مند آپ کے پاس آتا تھا اور آپ بڑے اطمینان سے اس کی بات سنتے تھے اور اسے صحیح مشورہ دیتے اور اس کی حتی المقدور امداد فرماتے تھے۔غرباء کی طرف بالخصوص توجہ دیتے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ ایسے مواقع کوشش سے ڈھونڈتے تھے کہ میں کسی طور سے لوگوں کے بوجھ ہلکے کرسکوں اور ان کی پریشانیوں میں ایک گھر کا فرد ہو کر شامل ہو سکوں۔ہم بچوں کو ہمیشہ نصیحت فرماتے تھے کہ انسان کو نافع الناس وجود بنا چاہئے۔ایسی زندگی جو صرف اپنی ذات کے لئے ہو وہ کوئی زندگی نہیں۔اپنی اس خصوصیت سے اپنے اوپر ہر تکلیف بخوشی قبول فرماتے تھے۔تعزیت کے لئے جو احباب تشریف لائے ان میں سرگودھا کے ایک غیر از جماعت دوست بھی تھے وہ جس صاحب کے ساتھ آئے تھے انہوں نے بیان کیا کہ جب سے انہوں نے حضرت میاں صاحب کے وصال کی خبر سنی ہے۔انہیں اس کا شدید صدمہ ہے اور آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔یہ دوست کہنے لگے کہ میں ایک مقدمہ میں ماخوذ تھا اور بغیر کسی تعارف یا واقفیت کے ربوہ حضرت میاں صاحب کے مکان پر چلا آیا اور اطلاع بھجوائی کہ میں ملنا چاہتا ہوں۔خادم جواب لایا کہ میاں صاحب فرماتے ہیں میری طبیعت اچھی نہیں۔پھر کسی وقت تشریف لائیں تو بہتر ہوگا۔وہ کہنے لگے میں اپنی تکلیف میں تھا اس لئے میں نے اصرار کیا کہ میں نے ضرور ملنا ہے۔اس کے تھوڑی دیر بعد میں نے دیکھا کہ میاں صاحب مکان سے باہر بڑی تکلیف اور مشکل سے دیوار کے ساتھ قریباً دونوں ہاتھوں سے سہارا لئے آہستہ آہستہ چلے آ رہے ہیں۔وہ دوست کہنے لگے میں بہت پشیمان ہوا کیونکہ مجھے اندازہ نہ تھا کہ آپ کو اس قدر