تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 143
تاریخ احمدیت۔جلد 22 143 سال 1963ء حضرت اماں جان کے ابا جان کے ساتھ اس تعلق کا حضرت صاحب کو بھی احساس تھا۔جب قادیان سے یہ خبریں آنی شروع ہوئیں کہ مقامی حکام کے ارادے اچھے نہیں اور وہ کسی نہ کسی بہانے ابا جان کو قید کرنا چاہتے ہیں تو حضرت صاحب نے اس وجہ سے اور پھر جماعتی کاموں کی خاطر ابا جان کو حکم دیا کہ پاکستان چلے آئیں۔ابا جان بڑے مخدوش حالات میں قادیان سے روانہ ہوکر لاہور پہنچے۔حضرت صاحب نے ابا جان کے لاہور بخیریت پہنچنے پر سجدہ شکر کیا اور پھر ننگے پاؤں شوق سے ابا جان کا ہاتھ پکڑ کر حضرت اماں جان کے پاس لے آئے اور فرمایا دلیں اماں جان! آپ کا بیٹا آ گیا ہے۔صحابہ حضرت مسیح موعود سے بھی ابا جان کو بہت گہرا لگاؤ تھا اور ان کی بہت عزت اور احترام کرتے تھے۔ان میں ہر طبقہ کے لوگ تھے اور ہر ایک کے ساتھ یکساں محبت اور مروّت سے پیش آتے تھے اور ان کا بہت خیال رکھتے تھے اور بعض کو دعاؤں کے لئے باقاعدہ لکھتے رہتے تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ یہ پاکیزہ گروہ اب آہستہ آہستہ کم ہوتا جا رہا ہے اور اب تو خال خال رہ گئے ہیں۔ان سے ملتے رہنا چاہئیے اور ان کی برکات سے فائدہ اٹھانا چاہیئے اور نو جوانوں کو چاہیے کہ کوشش کریں کہ وہ اپنے اندر انہیں اصحاب کے خلوص ، فدائیت اور تعلق باللہ کا رنگ پیدا کریں۔ایک اور چیز جو ابا جان میں نمایاں نظر آتی تھی وہ اسلام اور احمدیت کا مستقبل تھا۔اکثر احادیث اور حضرت مسیح موعود کی تحریرات اور الہامات کی روشنی میں اس کا گھر کی مجالس میں اور دوسرے دوستوں میں ذکر فرماتے تھے اور اس یقین سے بیان فرماتے تھے کہ یہ احساس پیدا ہوتا تھا کہ گو یا کسی واقع شدہ بات کا ذکر فرمارہے ہیں۔جماعت میں بہت سے اندرونی اور بیرونی فتنے اٹھے لیکن جہاں آپ ان سے چوکس ضرور ہوتے وہاں ان کی مکمل ناکامی اور اس کے بالمقابل جماعت کی ترقی کے یقین سے پر ہوتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ ایسے ہی کسی موقع پر مکرمی در دصاحب مرحوم نے مجھ سے بات کی۔فرمانے لگے کہ ان معاملات میں جماعت کے بعض چیدہ چیدہ لوگ بھی گھبرا اٹھتے ہیں لیکن میاں صاحب کا یہ حال ہے کہ جیسے کوئی مضبوط چٹان کھڑی ہو اور اس پر پانی کی لہریں اٹھ کر پڑتی ہوں۔لیکن وہ وہیں کی وہیں بغیر کسی تزلزل کے قائم و دائم کھڑی ہو۔جیسا کہ میں آگے چل کر بتاؤں گا کہ آپ کی طبیعت میں شفقت بہت تھی۔لیکن باوجود ایسی نرم اور شفیق طبیعت رکھنے کے جہاں دین کا معاملہ آجائے وہاں دوستوں سے بھی سختی دکھانے میں اجتناب نہ کرتے۔اپنے عمر بھر کے ایک دوست سے جن سے ہمیشہ بڑی شفقت سے پیش آتے ان سے ایک مرتبہ حضور کسی جماعتی معاملہ میں ناراض