تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 142 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 142

تاریخ احمدیت۔جلد 22 142 سال 1963ء تھا کہ شام کا کھانا قریباً روزانہ حضرت اماں جان کے ساتھ کھاتے تھے۔کھانا معاً مغرب کی نماز کے بعد کھایا جاتا تھا اور نماز سے فارغ ہو کر سیدھے اماں جان کے گھر جاتے تھے اور شام کا کھانا وہیں کھاتے تھے۔برادرم مکرم مرزا ناصر احمد صاحب کے علاوہ جو ہمیشہ اماں جان کے ساتھ ہی رہے میں بھی شامل ہو جایا کرتا تھا اور بعض دفعہ اور عزیز بھی۔کبھی کبھی ماموں جان ( حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب) بھی ہوتے تھے اور اس موقعہ پر ابا جان اور ماموں جان میں کسی نہ کسی دینی موضوع پر گفتگو شروع ہو جاتی۔بعض مرتبہ حضرت اماں جان تنگ آ کر فرمایا کرتی تھیں۔میاں اب بس کرو کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ایسے مواقع پر بعض مرتبہ حضرت خلیفہ مسیح الثانی بھی مغرب کی نماز کے بعد مسجد سے فارغ ہو کر راستہ میں گھر جاتے ہوئے ٹھہر جایا کرتے تھے۔ایسے مواقع پر حضور بیٹھتے کم تھے بلکہ صحن یا کمرہ میں موسم کے مطابق جہاں کہیں کھانے کا انتظام ہو ٹہلتے رہتے تھے اور گفتگو فرماتے جاتے تھے۔حضرت اماں جان کو بھی ابا جان سے بہت پیار تھا۔میری نظروں کے سامنے اب بھی اماں جان ان سیڑھیوں کے اوپر جو ہمارے قادیان کے مکان کو حضرت صاحب اور حضرت اماں جان کے مکان سے ملاتی ہیں کھڑی دکھائی دیتی ہیں ہاتھ میں پلیٹ ہوتی جس میں کوئی کھانے کی چیز جو انہوں نے پکائی ہوتی تھی پکڑی ہوتی تھی اور ابا جان کو آواز دے کر بلاتی تھیں کہ میاں تمہارے لئے لائی ہوں، لے لو۔ایسے وقت میں کبھی صرف ”میاں“ کہہ کر پکارتی تھیں۔کبھی ”میاں بشیر“ اور کبھی صرف بشری۔اسی محبت کے نام کی یاد میں ابا جان نے ربوہ کے مکان کا نام ”البشری رکھا اور اسے گھر کے دونوں طرف نمایاں کر کے کندہ کروایا۔اپنی آخری بیماری کے ایام میں ابا جان والدہ کو جاتے ہوئے کہہ گئے تھے کہ میری وفات کے بعد میری الماری میں ایک چھوٹا سا اٹیچی کیس ہے۔وہ مظفر کو کہنا خود کھولے چنانچہ جب میں نے اسے کھولا تو اس میں بعض اور ذاتی کاغذات کے علاوہ کچھ حضرت مسیح موعود کے دستی لکھے ہوئے خطوط اور چند لفافوں میں کچھ روپے پڑے تھے اور ہر ایک کے ساتھ مختصر سانوٹ تھا کہ یہ رقم حضرت اماں جان نے بطور عیدی کے ابا جان کو دی تھی اور آپ نے تبر کا اسے محفوظ رکھا ہوا تھا۔عیدی کی بعض رقوم قادیان کی دی ہوئی تھیں اور ہندوستانی نوٹ میں تھیں۔اس لئے ان کے لئے آپ نے اسٹیٹ بینک سے اجازت لے رکھی تھی اور وہ اجازت نامہ نوٹوں کے ساتھ غیر معمولی اہتمام کے ساتھ نتھی کر کے رکھا ہوا تھا۔