تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 137
تاریخ احمدیت۔جلد 22 137 سال 1963ء کے عالم میں جبکہ دوسرا پاس نہ تھا غیب سے بالکل صاف آواز سُنائی دی۔”السلام علیکم لیکن عام طور پر اپنے الہامات اور رؤیا کے بیان سے گریز فرماتے تھے۔ایک طرف اطاعت کا یہ حال تھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ہر حکم پر سمعنا واطعنا کی تصویر بنے رہتے تھے تو دوسری طرف صداقت کا یہ عالم تھا کہ ایک ایسی جرات کے ساتھ جو صرف توحید پرستوں کو عطا ہوتی ہے اپنی سچی اور سیدھی رائے دینے سے قطعا نہیں ہچکچاتے تھے خواہ وہ حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ کی رائے اور مزاج کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔محض حضور ایدہ اللہ کی خوشنودی کے حصول کے لئے اپنی دلی رائے کو بدلنا آپ کا شیوہ نہیں تھا۔کئی مرتبہ آپ کو مسائل میں اختلاف ہوتا تھا کئی مرتبہ دوسرے امور میں فرماتے تھے کہ رائے کے اختلاف میں انسان بے اختیار ہے البتہ جب حضرت صاحب میری رائے کے خلاف فیصلہ فرما دیتے ہیں تو بے چون و چرا اس پر عمل کرتا ہوں۔دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان بے کم و کاست اپنی صحیح رائے بیان کرے اور اطاعت کا تقاضا یہ ہے کہ جب صاحب امر اس کے خلاف فیصلہ کر دے تو پوری تسلیم و رضا کے ساتھ اس پر عمل کرے۔یہی مذہب تھا جس پر آپ ہمیشہ عمل پیرا ر ہے۔یہ بالکل برداشت نہیں تھا کہ کوئی احمدی سلسلہ سے کٹ کر الگ ہو جائے اس لئے ایسے لوگ جو کسی انتظامی سختی کی تلخی سے پیچھے ہٹ رہے ہوں یا کسی غلط فہمی کا شکار ہو گئے ہوں آخر دم تک انہیں واپس لانے کی کوشش میں مصروف رہتے۔کبھی احسان کر کے کبھی سمجھا بجھا کر کبھی شکایات کے جائز حصہ کو دور کر کے کبھی لمبے لمبے خطوط کے ذریعہ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی قو تیں بخشی تھیں وہ سب بروئے کار لے آتے کہ کسی طرح اس ڈوبتے ہوئے کو بچالوں۔فرماتے تھے کہ حضرت صاحب کو اللہ تعالیٰ نے نگران کے مقام پر کھڑا کیا ہے اس لئے ان کو یہی زیبا ہے کہ باقی بھیڑوں کو بچانے کے لئے بیمار بھیٹروں کو الگ کر دیں اور نظام سلسلہ کی حفاظت کا کڑا انتظام کریں۔باقی میں اپنی طرف سے پوری کوشش کرتا ہوں کہ اس تلخ فیصلہ کی نوبت ہی نہ آئے۔آپ صرف سلسلہ سے دور ہوتے ہوئے افراد کو ہی بچانے کی کوشش نہیں فرماتے تھے بلکہ اخلاقی یا تعلیمی لحاظ سے ضائع ہوتے ہوئے نوجوانوں کے لئے بھی آپ کا ماں کی طرح محبت کرنے والا دل سخت بے قرار ہو جایا کرتا تھا۔یقیناً سلسلہ کے بہت سے ایسے افراد ہیں جو محض آپ کی بے لوث شفقت ، بر وقت راہنمائی اور دردمندانہ دعاؤں کے نتیجہ میں ہلاکت سے بچ گئے۔اگر وہ احسان