تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 138 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 138

تاریخ احمدیت۔جلد 22 138 سال 1963ء فراموشی بھی کریں تو ان کی خوش حال زندگیاں ہمیشہ زبانِ حال سے آپ کو دعائیں دیتی رہیں گی۔دعاؤں کی آپ کو کمی نہیں۔نہ تھی نہ ہو گی۔آپ کو تو اپنے عالم وجود میں آنے سے پہلے بھی ایک نبی کی نیم شمی دعائیں حاصل تھیں اور وجود کے بعد بھی اس دنیا کی زندگی میں ان دعاؤں کے ٹھنڈے سائے تلے آپ نے پرورش پائی اور اُس دنیا کی زندگی میں بھی وہ دعا ئیں ہمیشہ آپ کے شامل حال رہیں گی۔دعاؤں کی آپ کو کمی نہیں کہ اصحاب کرام، بزرگانِ سلسلہ اور جملہ عاشقانِ مسیح موعود علیہ السلام کی پُر خلوص دعاؤں کے علاوہ ان یتیموں اور بیواؤں اور مسکینوں اور بے سہاروں کی دعائیں بھی آپ کو بہت میتر رہی ہیں جن کے دُکھ درد آپ نے اپنے سینے سے لگا رکھے تھے۔۔۔۔خدا تعالیٰ نے غیر مبہم الفاظ میں آپ کو قرب وفات کی خبر دے دی تھی۔بہت سی ایسی واضح رویا تھیں جن کا آپ ذکر تو کرتے تھے مگر تفصیل نہیں بتاتے تھے۔اس کے علاوہ کئی بار یہ الہام ہو چکا تھا کہ و بلبل چلیں کہ وقت آیا کئی لوگوں نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ منذر رویا صدقہ و خیرات سے مل جاتے ہیں مگر آپ فرماتے کہ میں یہ جانتا ہوں مگر باوجود اس کے مجھے یقین ہے کہ میر اوقت آچکا ہے۔آپ کو اپنی وفات کے قرب کا روز روشن کی طرح یقین تھا مگر افسوس کہ کسی اور کو یقین نہ آیا۔بچوں تک کو یقین نہ آیا کہ اس صادق القول باپ کی یہ بات بھی پوری ہو کر رہے گی۔۲۲ ستمبر کو میں مری سے واپسی پر لاہور پہنچا۔اسی روز آپ کی صاحبزادی امتہ المجید بیگم صاحبہ ڈھاکہ کے لئے روانہ ہوئی تھیں۔اُن سے بار بار کہا کہ امتہ المجید اب تم مجھ سے پھر نہیں ملو گی۔اور روتے ہوئے اُسے رخصت کیا۔اس دن طبیعت اس خیال سے سخت اداس اور بے قرار رہی۔پھر دوسرے روز برادرم مرزا انور احمد کے ساتھ آپ کی صاحبزادی امتہ الحمید بیگم صاحبہ نے ربوہ واپس جانا تھا میں بھی اسی کار میں ساتھ جا رہا تھا۔جب وہ سلام کرنے کے لئے حاضر ہوئیں تو فرمایا کہ اچھا تم چلی جاؤ اب یہ آخری ملاقات ہے۔آپ بہت ہی محبت کرنے والے اور رقیق القلب تھے۔آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک سیلاب جاری تھا۔پھر باوجود سخت نقاہت کے لڑکھڑاتے ہوئے اٹھے اور باہر کار تک اپنی بچی کو چھوڑنے کے لئے آئے۔آنکھیں اشک آلود تھیں اور ٹکٹکی باندھے دیکھے جارہے تھے۔مرزا انور احمد اس انتظار میں تھے کہ عموں صاحب اندر جائیں تو کار چلاؤں مگر میں جانتا تھا کہ جب تک کا رنہیں چلے گی واپس نہیں پھریں گے چنانچہ میں نے کہا کہ عموں صاحب کمزور ہیں اور مشکل سے کھڑے ہیں اس