تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 133
تاریخ احمدیت۔جلد 22 133 سال 1963ء تمام تصانیف کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹھوس علمی مقالہ جات لکھے جائیں کیونکہ آپ کی تحریر کا سطحی حسن تو سب پر عیاں ہو جاتا ہے اس کی مخفی در مخفی خوبیوں کے ادراک اور اظہار کے لئے غوطہ خور محقق کی ضرورت ہے۔میں یہ علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ آپ اپنے ہر لفظ کوعبارت میں اس طرح برمحل سجاتے تھے جیسے کوئی ماہر صراف زیورات میں جو ہر ٹکا رہا ہو۔ہر پہلو سے جانچ کر آپ جس لفظ کو جہاں بٹھا دیتے تھے الا ماشاء اللہ کسی ادیب کی طاقت نہ تھی کہ تحریر کے ظاہر و باطن کو بگاڑے بغیر اسے اس مقام سے اٹھا سکے۔ہلا سکے۔آپ کی یہ احتیاط الفاظ کی پرکھ تک ہی محدود نہ تھی بلکہ رحمت و شفقت کے بعد اگر کوئی رنگ آپ کی شخصیت پر غالب تھا تو وہ احتیاط ہی کا رنگ تھا۔احتیاط اور پھر احتیاط اور پھر احتیاط اور پھر بھی آپ تسلی نہ پاتے تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ میری طبیعت میں احتیاط کمزوری کی حد تک بڑھی ہوئی ہے۔اور اس پہلو سے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا موازنہ کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ میری بڑھی ہوئی احتیاط نے مجھ سے اقدام اور فیصلہ کی طاقت چھین لی ہے اس کے برعکس حضرت صاحب میں فوری فیصلہ کی طاقت اور بے دھڑک جرات مند اقدام کرنے کی صلاحیت موجود ہے میں تو یہ سوچتارہ جاتا ہوں کہ ایسا کرنا اچھا ہوگا یا بُرا اور حضرت صاحب اس عرصہ میں فیصلہ ہی نہیں بلکہ عمل کر کے دکھا دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ ہی ان کے کام درست فرما دیتا ہے۔پھر آپ کئی مرتبہ فرماتے کہ دیکھو ایک لیڈر کے لئے فوری فیصلے اور بے دھڑک اقدام کی طاقت کا ہونا ضروری ہے۔پس یہ احتیاط کا رنگ اپنے غلبہ کی وجہ سے ایک پہلو سے کمزوری بن گیا تھا مگر آپ کی بہت سی دیگر صفات کو اس غالب رنگ نے چار چاند بھی لگارکھے تھے۔آپ کے مشوروں میں اسی احتیاط نے ایک غیر معمولی وزن بھی پیدا کر دیا تھا خصوصا بے صبرے نو جوانوں کے لئے تو یہ مشورے ایک روشنی کے مینار کا کام دیتے تھے۔نوجوانوں پر ہی کیا موقوف آپ تو جگ مشیر تھے۔آپ کی محتاط طبیعت اور حدید نظر دور دور کے خطرات کو بھانپ لیا کرتی تھی۔جماعتی مسائل میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی آپ کے مشوروں کو بہت وزن دیتے تھے اور انفرادی مسائل میں ہر کس و ناکس آپ کے مشوروں سے استفادہ کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتا تھا۔نادار اور بے کس تو صرف علاج ہی نہیں پوچھتے تھے بلکہ دوا بھی مانگا کرتے تھے۔پس یہ ایک ایسا جگ وکیل تھا جس کے