تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 132
تاریخ احمدیت۔جلد 22 132 سال 1963ء ہوگا جس میں آپ کی زبان سے کوئی ادبی شہ پارہ نہ نکلا ہومگر افسوس کہ نہ تو یہ سب باتیں محفوظ ہوسکی ہیں اور نہ ہی یہ موقعہ ہے کہ اس ذکر کو لمبا کیا جاسکے۔میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ نصیحت صرف مزاح کی ملونی کے ساتھ ہی کیا کرتے تھے بلکہ آپ ایک قادر الکلام فصیح و بلیغ عالم تھے اور ہمیشہ اقتضائے حال کے مطابق کلام فرماتے تھے۔جب سنجیدگی کی ضرورت محسوس کرتے تو سنجیدگی سے کام لیتے تھے اور جب جلال کا موقع ہوتا تھا تو جلال کا اظہار فرماتے۔قادیان کا ذکر ہے کہ ایک مرتبہ گھر کے کسی فرد کا ذکر ہوا گرمیوں کی شام تھی بچی جان باہر صحن میں پلنگ پر بیٹھی تھیں اور عموں صاحب مجھے بازو سے پکڑے ہوئے ٹہل رہے تھے کسی کا ذکر ہورہا تھا جس نے حضرت عموں صاحب تک کسی کی کوئی بات غلط اور نا مناسب رنگ میں پہنچائی تھی جس سے ناحق آپ کے دل میں کچھ رنج پیدا ہو گیا۔مگر چونکہ آپ ہمیشہ ایسے موقعہ پر متعلقہ شخص سے دریافت کر لیا کرتے تھے اس لئے تھوڑے ہی عرصہ بعد آپ کو حقیقت حال معلوم ہو گئی چنانچہ اسی کے متعلق آپ مجھ سے افسوس کا اظہار فرما رہے تھے کہ بعض لوگ خواہ مخواہ فتنہ کا موجب بن جاتے ہیں۔یہ سن کر حضرت چی جان نے کہا کہ میں تو آپ کو ہمیشہ کہتی ہوں کہ وہ شخص نا قابل اعتماد ہے مگر پھر بھی آپ اس سے تعلق رکھتے ہیں اس پر آپ نے وہیں قدم روک لئے اور ایک ایسی آواز میں جو غصہ والی اور اونچی تو نہیں تھی مگر اس میں بے پناہ قوت پائی جاتی تھی۔فرمایا دیکھو مجھے ایسا مت کہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی کمزوریوں پر نگاہ رکھتا تو اس کا کسی بندہ سے تعلق نہ ہوتا وہ اپنے بندے کی کسی خوبی پر نظر رکھ کر اس سے تعلق رکھتا ہے پس وہ میری کیسی ہی بدخواہی کرے میں اس سے تعلق نہیں توڑوں گا۔پھر دھیمی نرم آواز میں فرمانے لگے تم جانتی ہو کہ اُس میں بعض بہت بڑی خوبیاں بھی ہیں اور پھر ایک دو نمایاں خوبیوں کا ذکر فرمانے لگے۔اپنے تمام واقفیت کے حلقہ پر نظر دوڑا کر میں پورے وثوق اور شرح صدر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آپ اس زمانہ کے بہترین ناصحین میں سے تھے۔آپ کی تحریری صلاحیتوں کے بارہ میں اس موقع پر کچھ نہیں کہنا چاہتا۔آپ کی تصانیف سے ایک جہان واقف ہے اور محض یہ دہراتے رہنا کہ آپ بہت اچھا لکھنے والے تھے کوئی خاص قیمت نہیں رکھتا۔سلطان القلم کے عظیم الشان وارث کے اس امتیازی ملکہ کے بارہ میں ضرورت ہے کہ آپ کی