تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 131
تاریخ احمدیت۔جلد 22 131 سال 1963ء جلسہ کے دن تھے کئی نو جوان با ہر آپ کے مردانہ صحن میں مجلس کر رہے تھے اور چونکہ ان میں سے بعض سگریٹ بھی پیتے تھے اس لئے اس ڈر سے کہ حضرت میاں صاحب اوپر سے نہ آ جائیں اندر سے کنڈے لگا کر سگریٹ نوشی کرنے لگے۔کچھ دیر کے بعد ہی آپ تشریف لے آئے دروازہ کھلوایا السلام علیکم کہا اور باہر تشریف لے گئے۔مگر تھوڑی ہی دیر کے بعد پھر واپس آئے اور کمرہ میں داخل ہو کر آدمی گنے۔ایک دو تین چار پانچ چھ سات اور خاموشی سے سات الا ئچیاں جیب سے نکال کے میز پر رکھ کر باہر چلے گئے۔آپ کے جانے کے بعد سب کمرے والے اس لطیف مذاق پر بے اختیار ہنس دیئے مگر اس ہنسی میں جو خفت تھی وہ شاید آج تک اُن کو نہ بھولی ہو۔ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ نشہ کا تو کیا سوال ساری عمر مجھے کبھی کسی غیر منشی چیز کی بھی عادت نہیں پڑی حتی کہ جب میں سمجھتا ہوں کہ چائے کی بھی عادت سی ہو چلی ہے تو کچھ دیر کے لئے اسے ترک کر دیتا ہوں۔آپ کے مزاح اور نصیحت کے امتزاج کے سلسلہ میں ایک بہت پرانی بات یاد آ گئی۔ابا جان اور امی جب کبھی سفر پر جاتے تھے تو مجھے اور بھائی خلیل کو عموں صاحب کے ہاں چھوڑ جایا کرتے تھے۔چنانچہ ہمیں بعض اوقات کئی کئی مہینے آپ کے ہاں ٹھہرنے اور آپ کی صحبت سے فیضیاب ہونے کا موقعہ ملتا تھا۔ایک مرتبہ رمضان کا مہینہ تھا بچی جان بسبب بیماری روزہ رکھنے سے معذور تھیں مگر سحری کے وقت تہجد کی غرض سے اور کچھ کھانے پر خیال رکھنے کی خاطر با قاعدہ ساتھ اٹھا کرتی تھیں۔ایک دفعہ ہم سحری کھا رہے تھے کہ کسی خادمہ کی غلطی پر بیچی جان نے ذرا اونچی آواز میں اسے سخت سست کہا۔عموں صاحب ان سے تو کچھ نہ بولے مگر مجھے مخاطب کر کے فرمانے لگے تم جانتے ہونا کہ تمہاری چچی جان بیمار ہیں بیچاری روزے تو نہیں رکھ سکتیں البتہ ذکر الہی کے لئے اس وقت ضرور اٹھتی ہیں وہ دن اور رمضان کا آخری روزہ پھر بچی جان نے کبھی سحری کے وقت آواز بلند نہیں کی۔مزاح کا یہ لطیف رنگ خود بخود بغیر کسی کوشش کے ایسابا موقعہ ابھرتا تھا کہ فضا کو رنگین بنادیتا تھا اور بعض اوقات تو اس میں ایسا بے ساختہ پن پایا جاتا تھا کہ ظہور کے وقت تک مزاح چُپ چاپ سنجیدگی کے پردوں میں چھپارہتا تھا اور کسی کو کانوں خبر نہ ہوتی تھی۔لطیف پُر وقار مزاح اور نصیحت کی دلنشین آمیزش جس رنگ میں آپ کر سکتے تھے شاذ و نادر ہی کوئی کر سکتا ہوگا۔اس کی بیسیوں سینکڑوں مثالیں موجود ہیں بلکہ شاید ہی آپ کی زندگی کا کوئی ایسا دن ڈوبا