تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 130
تاریخ احمدیت۔جلد 22 130 سال 1963ء بھی کہ مجھے اور بچوں سے کچھ زیادہ ہی بھوک لگا کرتی تھی اکثر دن میں کئی کئی مرتبہ جاتا اور کبھی آپ کو اپنے سلاموں سے تنگ آتے نہیں دیکھا اور یہ بھی ایک بلا مبالغہ حقیقت ہے کہ صرف یہی ایک وجہ میرے آنے جانے کی نہیں تھی۔آپ کی مسلسل بے لوث محبت کی بنا پر مجھے آپ سے ایسا پیار ہو چکا تھا کہ بار بار آپ کے پاس آنے جانے کو بھی جی چاہتا تھا۔جہاں تک کہ آپ کی عنایات کا تعلق ہے یہ تو ایک ایسا کنواں تھا کہ اگر پیاسے نہ آئیں تو خود پیاسوں کے پاس پہنچ جانے کا عادی تھا۔ایک دفعہ ہم سب چھوٹے بھائیوں کو حضور ایدہ اللہ نے مولوی عبد الرحمن صاحب انور کی نگرانی میں ڈلہوزی بھجوایا۔ان دنوں میں آم کا موسم ختم ہونے کو تھا اور آخری موسم کے آم فجری رہتے تھے۔آپ نے میرے لئے بار یک خوبصورت رنگین کاغذوں میں لیٹے ہوئے فجری آموں کی ایک پیٹی بند کروائی (آپ جب بھی کسی کو کوئی تحفہ دیتے تھے نہایت سلیقے سے سجا کر دیا کرتے تھے ) پھر تا کید فرمائی کہ ان کو کھانے سے پہلے یہ احتیاط کر لینا کہ نہ تو یہ ذرہ بھر کچے ہوں نہ ایک اعشاریہ زیادہ پکے ہوں۔کیونکہ فجری آموں کی یہ کمزوری ہے کہ ذرا بھی زیادہ پک جائیں یا ذرا کچے رہ جائیں تو مزہ بالکل بگڑ جاتا ہے۔البتہ پورے پکے ہوئے آم بہت عمدہ اور لطیف ہوتے ہیں۔آپ فرماتے تھے کہ فجری آم اپنا بہترین مزہ پہاڑ پر دیتا ہے۔چنانچہ ان تاکیدوں کے ساتھ آپ نے وہ آموں کی بیٹی میرے ساتھ روانہ فرمائی۔آپ کی عنایات محض بہت بچپن کی عمر تک ہی محدود نہ تھیں بلکہ خاصی بڑی عمر کے اہلِ خاندان بھی اس پہلو سے آپ کی نظر میں بچے ہی تھے۔اگر چہ آخری عمر میں ذمہ داریوں کے بے حد بوجھ اور تفکرات کے غیر معمولی طور پر بڑھ جانے سے بچوں کا خیال پہلے کی طرح نہیں رکھ سکتے تھے مگر پھر بھی جب کبھی کوئی موسمی پھل یا ہندوستان کے کیلے آئے ہوئے ہوں تو آپ کے کمرے میں نوعمر زائرین کی تعداد غیر معمولی طور پر بڑھ جایا کرتی تھی لیکن باوجود شدید مصروفیت کے یہ پسند نہ فرماتے تھے کہ کسی کو صاف صاف نکل جانے کے لئے کہیں۔مبادا اس کے جذبات کو ٹھیس لگے۔چند ہی ماہ کی بات ہے قادیان سے کیلے آئے ہوئے تھے اک بڑی عمر کی بچی نے جا کر خاص طور پر سلام کیا۔اُسی خلوص کے ساتھ آپ نے برجستہ فرمایا:۔و علیکم السلام مگر کیلے ابھی کچے ہیں۔حاضر جوابی اور نہایت ہی لطیف اور پاکیزہ مزاح آپ پر ختم تھے۔اور یہ مزاح جس انو کھے رنگ میں آپ نصیحت کے لئے استعمال کرتے تھے۔وہ رنگ آپ ہی کا حصہ تھا۔قادیان کی بات ہے غالباً