تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 124
تاریخ احمدیت۔جلد 22 124 سال 1963ء ان کے کام ان کے اخلاق دیکھیں اور پختہ عزم سے آگے بڑھیں عہد کریں کہ آئندہ ہم اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش میں لگے رہیں گے اور نیکیوں اور خدمت دین میں قدم آگے ہی آگے بڑھائیں گے۔خدا تعالیٰ سب کا ناصر رہے اور اگر آج ایک چاند ایک بشیر ہم سے رخصت ہو کر اپنے مولیٰ کے حضور میں حاضر ہو گیا تو اس کے عوض ہمارا رب ہزاروں بشیر ہم کو عطا فرمائے۔آمین ثم آمین۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے تاثرات پیکر ایثار ووفا (مبارکه) و محض اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان اور اس کی ذرہ نوازی نے اس عاجز کے لئے صاحبزادہ میرزا بشیر احمد صاحب کی مشفقانہ رفاقت نصف صدی سے زیادہ عرصہ کے لئے میسر فرما دی اور اس تمام عرصے میں یہ عاجز متواتر اُس پاک اور صافی چشمہ فیض سے متمتع ہوتا رہا اور اُس بے نفس اور ہمہ تن متواضع ہستی کی طرف سے پیہم مور دالطاف و عنایات رہا۔۔۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں الید العلیا سے نوازاتھا اور خاکسار کا مشاہدہ اور تجربہ سترہ سال کے سن سے لے کر ستر سال کی انتہاء تک یہی رہا کہ وہ ہاتھ ہر حالت میں بلند و بالا ہی رہا کبھی فضل الہی نے اسے نیچا نہ ہونے دیا۔ذالک فضل الله يؤتيه من يشاء۔یہ تمام کیفیت کچھ خاکسار کے ساتھ ہی مخصوص نہ تھی۔ان گنت احباب اس کے مور دو شاہد ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ خویش و درویش، اپنا اور پر ایا، جو بھی اس چشمے تک آیا بے سیراب ہوئے نہ لوٹا۔اگر کبھی کمی رہی تو ظرف سائل میں نہ کہ فیضِ ساقی میں۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی پاکیزہ زندگی سن شعور سے لے کر دم واپسیں تک ہمارے لئے ایک نیک نمونہ اور مشعل راہ رہی۔جب تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے میٹریکولیشن کی سند حاصل کرنے کے بعد آپ گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم جاری رکھنے کے لئے تشریف لائے تو خاکسار بھی گورنمنٹ کالج میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔اُن ایام میں بعض پہلوؤں سے سلسلے کی مخالفت اور جماعت کے ساتھ عناد بہت شدت کا رنگ لئے ہوئے تھے۔لیکن حضرت صاحبزادہ صاحب کا نیک کردار آپ کا حسن سلوک، اعلیٰ خُلق اور وقار وہ درجہ رکھتے تھے کہ نہ صرف طلباء بلکہ اساتذہ بھی آپ کے ساتھ تلطف کے ساتھ پیش آتے تھے اور آپ کا احترام کرتے تھے۔پروفیسروں میں سے مسٹر جی اے وادن