تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 125
تاریخ احمدیت۔جلد 22 125 سال 1963ء تو خاص طور پر آپ کے مداح تھے۔کالج کے زمانے میں صاحبزادہ صاحب نہ صرف جماعت میں حاضری کی پابندی کرتے تھے اور مطالعہ میں توجہ سے مصروفیت رکھتے تھے بلکہ کالج کے دیگر جائز مشاغل میں بھی مناسب حصہ لیتے تھے خاکسار کو یاد پڑتا ہے کہ کھیل تفریح میں سے فٹ بال میں آپ شریک ہوا کرتے تھے۔موجودہ صورت سے تو خاکسار واقف نہیں لیکن اُس زمانے میں کالج کے ابتدائی سالوں میں ہوسٹل میں رہنے والے طلباء کو سات دیگر طلباء کے ساتھ ایک کمرے میں رہنا تھا۔صاحبزادہ صاحب بھی چونکہ ہوٹل میں قیام پذیر تھے اس لئے انہیں بھی یہی صورت در پیش تھی جس میں انہیں خلافِ معمول دقتوں اور پریشانیوں سے دو چار ہونا پڑتا تھا۔کھانے کا انتظام بھی ان دنوں ہوٹل میں کوئی ایسا تسلی بخش نہیں تھا۔دو وقت سالن اور چپاتی پر گذران تھی لیکن صاحبزادہ صاحب نے اپنا وقت کالج اور ہوٹل میں نہایت بشاشت اور خندہ پیشانی سے گزارا۔نہ ماتھے پر شکن آیا نہ زبان پر حرف شکایت۔حضرت اماں جان اوسطاً ہر مہینے آپ کے لئے خشک میوہ ایک کنستر بھر کر ارسال فرما دیا کرتی تھیں لیکن حضرت صاحبزادہ صاحب اپنے سب دوستوں کو اس میں شریک فرمالیا کرتے تھے۔خاکسار کا اندازہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا حصہ اس تبرک میں حضرت صاحبزادہ صاحب کے حصے سے کہیں بڑھ کر ہوا کرتا تھا۔غرض کالج کے تمام زمانے میں اگر چہ صاحبزادہ صاحب کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہوالیکن آپ نے اپنے لئے کسی خصوصیت یا امتیاز کی نہ خواہش کی نہ اسے پسند فرمایا۔قناعت، فروتنی حلم اور مسکنت کو شعار رکھا اور یہ صفات عمر بھر آپ کا امتیاز رہیں۔خاکسار ۱۹۱۴ء کے آخر میں تعلیم سے فارغ ہو کر انگلستان سے واپس آیا اور انگلستان کے قیام کے عرصے میں صاحبزادہ صاحب کی رفاقت سے جو محرومی ہو گئی تھی وہ دُور ہوگئی البتہ کسی قدر بعد مکانی ضرور پیش آ گیا۔کیونکہ خاکسار کی رہائش اول دو سال سیالکوٹ میں رہی اور آخر اگست ۱۹۱۶ء میں لاہور میں منتقل ہو گئی لیکن جب قادیان حاضر ہونے کا موقعہ میسر آتا تو خاکسار حضرت صاحبزادہ صاحب کا مہمان ہوتا۔یہ صورت سالوں رہی لیکن ایک لفظ بھر بھی کبھی خاکسار نے اپنے تئیں آپ کے ہاں مہمان شمار نہیں کیا بلکہ ہر لحاظ سے آپ کے گھر کو بے تکلفی میں اپنا ہی گھر محسوس کیا اور آرام میں