تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 123
تاریخ احمدیت۔جلد 22 123 سال 1963ء اماں جان اور حضرت بڑے بھائی صاحب کی ہی گود میں گزرا۔انہوں نے ہی سب لاڈ پیار کئے ناز اٹھائے۔ان کی شادی کے وقت بھی سب اماں جان اور بڑے بھائی پر فیصلہ چھوڑا کہ آپ کو ہی اختیار ہے اور بعد میں دوسرے بچوں کے مواقع پر بھی یہی طرز عمل قائم رہا۔اگر حضرت اماں جان نے کہہ دیا کہ فلاں لڑکی سے کر دو اپنے اس لڑکے کا۔تو بلا چون و چرا منظور تھا۔اسی طرح لڑکیوں کا معاملہ بھی۔سب ان دونوں بزرگ ہستیوں پر ہمیشہ چھوڑا۔منجھلی بھابی جان بیاہ کر آئیں تو نہ معاشرت نہ طور وطریق نه وضع لباس وغیرہ نہ زبان کچھ بھی مشترک نہ تھا اور آخر نادان کم عمر تھیں وہ بے چاری بھی۔کئی باراگر وہ تعلقات بگاڑنے والے ہوتے تو بگڑ سکتے تھے مگر ایسی خوش اسلوبی سے نبھایا کہ ایسے نمونے ملتے مشکل سے ہی ہیں۔ادھر سال ہا سال سے وہ بیمار بھی چلی آرہی ہیں۔اتنے دراز عرصہ میں انسان اور اتنے کاموں والا جس کے کندھوں پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ہوں اور خود بیمار ہو اس سے غفلت بھی ہو سکتی ہے۔کسی وقت بے دھیان بھی ہو سکتا ہے۔مگر کبھی ان کی خدمت اور دیکھ بھال سے غافل نہ ہوئے۔ذرا ذرا دیر کے بعد اس حال میں کہ اپنی ٹانگیں لڑکھڑا رہی ہیں۔طبیعت خراب ہے۔ان کی خبر پوچھنے ان کے کمرے میں جارہے ہیں۔ان کی خادمات کی خاطر میں ہو رہی ہیں کہ اس بے کس بیمار و لا چار کو چھوڑ کر نہ چل دیں۔غرض بچپن کی حضرت مسیح موعود کے ہاتھوں کی لگائی خوب نبھائی۔اولاد کے لئے بہترین شفیق باپ تھے۔کسی بات پر سمجھاتے بھی تو نرمی سے اکثر شاید اس خیال سے کہ میں نرمی کروں گا کسی امر کی اصلاح مد نظر ہوتی تو دوسرے عزیز کو قریب سے کہتے کہ ذرا میرے فلاں بچہ کو تم اس معاملہ میں سمجھانا۔مجھ سے بھی یہ خدمت لی ہے۔غرض آپ کی گھریلو زندگی کا بھی ہر پہلو ایک نمونہ تھا۔سوچ کر ایک ہلکی ہلکی بوندیں پڑنے کا سماں تصور میں آتا ہے کہ ٹھنڈی خوشگوار ہوا چل رہی ہے اور ابر رحمت سے قطرے گر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت ان پر تا ابد برستی رہے۔آمین مبارک بزرگ ہستیوں کا ذکر خیر کرنا اور ان کے اخلاق و شمائل کو محفوظ رکھنا بے صبری اور جزع فزع میں ہرگز شامل نہیں۔یہ تحریریں تو نو جوانوں کے لئے مشعل راہ بن سکتی ہیں۔الفضل کے مضامین یا جو بعد میں بھی لکھا جائے آئندہ تاریخ احمدیت کا ایک اہم باب ہوں گے۔ان بزرگ ہستیوں کی جدائی کا احساس تو صرف یہاں تک ہونا چاہیئے اور ضرور ہو گا کہ آج افسوس ہم ایک اور نعمت الہی سے محروم ہو گئے۔اصل چیز جس کا خیال خصوصیت سے جوان طبقہ کو رکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ ان کی قربانیاں