تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 90
تاریخ احمدیت۔جلد 22 90 سال 1963ء اور ذکر الہی اور درود شریف میں انہماک کی وجہ سے ہزاروں قلوب میں ذکر وفکر اور روحانیت سے ایک طبعی لگاؤ، فطری وابستگی اور گہرا شغف پیدا ہو چکا تھا علاوہ ازیں بہتوں کو اللہ تعالیٰ نے متواتر مبشر خوا میں دکھا ئیں اور بعض ایسے احباب کو جو ابتداء میں اس روحانی قافلہ میں شریک نہیں تھے خوابوں کے ذریعہ اس امر کی تحریک ہوئی کہ وہ اس بابرکت اور نیک کام میں شامل ہوں۔الغرض روحانیت کی ان فضاؤں میں یہ مجاہدہ پوری جماعت کے لئے خوشکن اثرات کا حامل ثابت ہوا۔جناب شیخ محبوب عالم صاحب خالد ایم اے معتمد صدر صدر انجمن احمد یہ پاکستان نے اس مبارک تحریک کی برکات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرمایا:۔پچھلے دنوں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے یہ تحریک فرمائی تھی کہ احباب جماعت میں سے کم از کم تین ہزار دوست یہ عہد کریں کہ متواتر ۴۰ دن تک اسلام کے غلبہ اور فتح اور حضرت خلیفۃ المسیح اطال اللہ بقاءہ کی صحت کاملہ عاجلہ کے لئے پُر سوز دعاؤں اور بالالتزام نماز تہجد کی ادائیگی کے علاوہ روزانہ کم از کم ۳۰۰ مرتبہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے رہیں گے۔اس تحریک میں آٹھ ہزار کے قریب دوستوں نے باقاعدہ طور پر حصہ لیتے ہوئے اپنے نام بھجوائے اور ان کے علاوہ ہزاروں دوست ایسے بھی ہیں جو کسی مجبوری کی وجہ سے نام تو نہیں بھجوا سکے۔مگر وہ ان دعاؤں میں شریک ضرور رہے۔اور جماعت کے کمسن بچوں نے بھی اور نہیں تو کم از کم درود شریف کے ورد کے نیک کام میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ان میں سے بعض نے تو ۳۰۰ پر اکتفا نہیں کی۔اس سے بہت زیادہ تعداد میں درود شریف پڑھتے رہے۔الحمد للہ علی ذالک۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شدید عشق اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بدولت ہمیں نصیب ہوا۔جن کی آمد کی ایک اہم غرض یہ تھی کہ وہ خدا کے فضل سے ایک ایسی روحانی جماعت پیدا کریں جو صحیح معنوں میں عاشق رسول ہو اور جس کا تعلق خدا تعالیٰ کے ساتھ ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت للہیت کے جذبہ سے سرشار ہو کر اپنے اندر ایک نیک تبدیلی پیدا کرے۔ایک عظیم تبدیلی جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث ہو۔اس کے لئے بے شمار فضلوں کی جاذب اور اس کی بے انتہاء برکتوں کی حامل مبارک تحریک دعا نے احباب جماعت کو اس نیک کام کی طرف متوجہ کر دیا اور اس میں یکسر منہمک کر دیا۔اس طرح کہ وہ اکثر شب و روز دعاؤں میں مصروف رہے۔اس بابرکت تحریک دعا میں شریک دوستوں کی اکثریت نے خدا کے فضل سے اپنے اندر ایک نیک تبدیلی محسوس کی اور خدا کی یاد میں