تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 91 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 91

تاریخ احمدیت۔جلد 22 91 سال 1963ء محویت، ذکر الہی کے شغف ، درود شریف میں انہماک اور نوافل اور دعاؤں کے طفیل خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کے دل دھل گئے غفلت اور سستی دور ہوگئی اور ان میں ایک نئی روح پیدا ہوگئی اور للہیت اور فدائیت کے جذبہ سے سرشار ہو کر خدا کے فضل سے انہوں نے خدمت دین کے لئے اپنے دل میں شدید نژپ محسوس کی۔تحریک دعا کے دوران بہت سے دوستوں کی طرف سے صدر محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی خدمت میں خط موصول ہوئے جن میں انہوں نے اس تحریک کے بابرکت ہونے کی گواہی دی۔اور اس امر کا اعتراف کیا کہ یہ تحریک ان کے لئے اور جماعت کے لئے خدا تعالیٰ کے بہت سے فضلوں کو کھینچنے کی باعث ہوئی۔انہوں نے ذاتی طور پر اپنے دلوں میں خدا تعالیٰ کے نور کو جلوہ گر دیکھا۔اور یہ محسوس کیا کہ وہ روحانی دوڑ میں روز بروز خدا تعالیٰ کے قریب سے قریب تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔چنانچہ ایک صاحب نے اپنے خط میں لکھا:۔آپ کی تحریک مبارک جاری کردہ ایک شیریں نہر روحانی جس میں سے گزرتے آج تیسواں روز ہوا بے شمار رحمتوں اور برکتوں سے پر ، مایوسیوں کو دور کرنے والی صبر اور شکر کی طاقت دینے والی، عموم و ہموم کے بادلوں سے با سلامت پارا تارنے والی ثابت ہوئی۔۔۔درود شریف پڑھنے کا حکم بیعت فارم میں موجود ہے۔اور ہر احمدی پر یہ فرض ہے۔مگر میں بیعت کے بعد بھی صرف نماز میں درود پر اکتفا کرتا رہا۔اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے بے شمار فضلوں کا وارث بنائے۔آپ نے ایسے وقت یہ تحریک فرمائی کہ نہ صرف حضور اقدس کی صحت اور اسلام کی ترقی ہی اس سے معلوم و مشہور ہوئی بلکہ اس کا یہ اثر ہوا کہ خود مجھے اس نورانی عالم میں لے گئی۔جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی نوع بشر کو لانے کے لئے تشریف لائے تھے۔میں سچ سچ عرض کرتا ہوں کہ مجھے اس کا ایک بھاری فائدہ یہ ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور کلام اللہ کا مرتبہ معلوم ہوا۔عشق جس کا نام ہے اور معشوق جس کی شہرت ہے۔اس کا آج تک پتہ ہی نہ تھا۔میں اپنے تصورات کی بھول بھلیوں میں چکر کاٹ رہا تھا کہ اچانک یوں ہوا کہ خدا کے مامور کے فرزند کی ایک پاک مطہر تحریک سے قلب عشق کے راز سے یوں آشنا ہو گیا جیسے کسی اندھے کو روشنی کی کرن نظر آ جائے اور وہ پھڑک اٹھے۔اس عرصہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق استاذی المعظم حضرت علامہ محدث سید میر محمد الحق صاحب سے ملاقات ہوئی۔میں وہ نور اور اس کی چمک اس کی پُر محبت نظر چشم پرنم