تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 88
تاریخ احمدیت۔جلد 22 88 سال 1963ء تھی وہ خلافت ثانیہ کے آخری دور میں پورے نقطہ عروج تک پہنچ گئی تھی جبکہ عشاق احمدیت جلسوں اور خطبوں میں اپنے محبوب آقا کا چہرہ دیکھنے تک کو ترس گئے اور ان کی حسرتیں دل ہی دل میں بے قرار تمنائیں بن کے رہ گئیں۔اُن دنوں پوری دنیا ئے احمدیت حضور کی شفایابی کے لئے سرتا پا سوز و گداز اور مجسم دعا بنی ہوئی تھی۔ایسے دردانگیز ماحول میں (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر صدر انجمن احمدیہ نے وسط ۱۹۶۳ء میں نہایت پر زور الفاظ میں یہ مبارک تحریک فرمائی کہ کم از کم تین ہزار احباب عہد کریں کہ وہ یکم اگست سے ۹ ستمبر ۱۹۶۳ء تک غلبہ اسلام اور حضور کی کامل و عاجل صحت یابی کی دعاؤں اور بالالتزام تہجد کے ساتھ تین سو مرتبہ درود شریف پڑھتے رہیں گے کیونکہ الہی بشارتوں کو جلد تر دیکھنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بکثرت درود بھیجنا بہت ضروری اور مفید ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے علاقائی امراء سے درخواست کی کہ وہ اس بابرکت تحریک میں شمولیت کے لئے اجتماعی اور انفرادی طور پر مخلصین کو تحریک فرما ئیں اور یکم اگست سے پہلے پہلے دفتر صدر صدر انجمن کو ان کے اسماء گرامی سے مطلع فرمائیں۔اس مبارک تحریک کے جاری ہونے پر ابھی تیسرا ہفتہ بھی نہیں آیا تھا کہ جناب الہی کی طرف سے اس کی نسبت مبشر خوابوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے الفضل ۲۰ را گست ۱۹۶۳ء) میں تحریر فرمایا:۔تہجد ، دعاؤں اور درود شریف کی جو تحریک ( یکم اگست تا ۹ ستمبر ۱۹۶۳ء) میں نے پچھلے دنوں کی تھی۔اس تعلق میں بیسیوں دوستوں نے اپنی خوا میں بیان کی ہیں جس سے پتہ لگتا ہے کہ ہمارا رب جو قادر وتوانا ہے۔ہماری اس ناچیز کوشش کو شرف قبولیت عطا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ایک دعا گو بزرگ دوست کو جنہوں نے اپنا نام بعض وجوہ کی بناء پر اس تحریک میں نہیں لکھوایا تھا۔یکم اگست کی رات خواب میں کہا گیا۔اٹھو اور غلبہ اسلام کے لئے دعائیں کرو ایک اور دوست کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے۔بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ فِي هَذِهِ المُجَاهَدَةِ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے اس مجاہدہ کو بہت سی برکتوں کا موجب بنائے۔ایک اور دوست نے لکھا ہے کہ مبارک تحریک دعا میں میں اپنی کمزوریوں کی وجہ سے شمولیت سے تردد کر رہا تھا لیکن دل میں جوش موجزن تھا۔چنانچہ ایک رات خواب میں دیکھا کہ مجھے کسی نے آواز دی بتاؤ تم کیا چاہتے ہو۔ہم