تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 86
تاریخ احمدیت۔جلد 22 86 سال 1963ء مختلف موضوعات پر آپ سے تبادلہ خیالات کیا۔۱۳ راگست کو شیخ الاسلام نے عصرانہ دیا۔آپ نے انہیں بتایا کہ میں تھائی لینڈ میں یہ جائزہ لینا چاہتا ہوں کہ یہاں بدھوں میں تبلیغ اسلام کا راستہ کیسے کھل سکتا ہے۔شیخ الاسلام آپ سے قرآن مجید کی بعض آیات کی تفسیر و ترجمہ دریافت کرتے رہے اور جواب سن کر بہت خوش ہوئے۔اس وقت تھائی لینڈ کے مسلمانوں کے پریذیڈنٹ اور اسلامی سکول 152 کے ڈائریکٹر بھی موجود تھے۔الغرض آپ کا یہ سفر ہر اعتبار سے بہت کامیاب رہا جس سے مشرق بعید کی احمدی جماعتوں میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔سفر میں ہر جگہ خصوصاً انڈونیشیا میں اخلاص و محبت کے والہانہ نظارے دیکھنے میں آئے۔محترم کمال یوسف صاحب جا کرتا سے روانگی کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔اس وقت جذبات کی عجیب کیفیت تھی۔جماعت کے اخلاص اور صاحبزادہ صاحب کی ذات کے ساتھ محبت کو دیکھ کر اور یہ تصور کر کے کہ چند منٹ میں جہاز میاں صاحب کو دور لے جائے گا سب سے زیادہ خیال جو دل میں آتا تھا وہ یہ تھا کہ کاش حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جن کی مساعی اور دعاؤں کے نتیجہ میں اتنی عظیم الشان جماعت ملی۔یہاں موجود ہوتے اور اپنی دعاؤں کا پھل خود دیکھتے۔وہاں کے احباب اپنے محبوب کو دیکھتے۔برادرم محمد نسب جب سماٹرا سے جاوا حضرت میاں صاحب کو ملنے کے لئے آئے تو آتے ہی حضرت صاحب کی صحت کا پوچھا پھر کہنے لگے کہ حضرت صاحب یہاں کبھی نہیں تشریف لائے۔پھر کہنے لگے خدا کی اس میں کچھ حکمت ہوگی ان الفاظ کے بعد رونے کی وجہ سے ہچکیوں کی آواز آنے لگی۔نوجوان اور تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود طبیعت پر بالکل قابو نہ رہا۔بلک بلک کر بچوں کی طرح رونے لگے اور پھر جلد ہی اُٹھ کر باہر چلے گئے۔جب کچھ طبیعت سنبھلی تو پھر اندر آگئے۔یہ ذہنی کیفیت صرف نسب صاحب کی ہی نہیں تھی اکثر دوستوں کا یہی حال تھا۔حضور کا نام آیا تو آنسو تھے کہ تھمتے ہی نہیں تھے۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کم و بیش ایک ماہ کے تبلیغی سفر کے بعد ۱۴ / اگست کو بنکاک سے کراچی اور ۶ اراگست کو کراچی سے بذریعہ تیز گام لاہور پہنچے اور شام کو بذریعہ کار مرکز احمدیت ربوہ میں وارد ہوئے جہاں آپ کا پُر تپاک استقبال کیا گیا۔