تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 85
تاریخ احمدیت۔جلد 22 85 سال 1963ء آپ بنڈونگ کی اہم جماعتی تقریبات میں قریباً ایک ہفتہ تک شبانہ روز مصروف رہے جس کے بعد یکم اگست کو اندرون ملک کی احمدی جماعتوں کے دورہ پر روانہ ہوئے۔اسی روز آپ نے سنگا پر نا کی مسجد محمود کا افتتاح کیا۔تا سیک ملایا میں خطبہ جمعہ دیا۔شام کو ایک استقبالیہ میں شرکت کی۔۳ راگست کو واپس بنڈ ونگ آئے۔۴/ اگست کو بوقت عصر بوگور کی جماعت سے خطاب کیا۔۵/اگست کو آپ جا کرتا پہنچے۔جکارتہ میں ۶ را گست کو آپ نے ایک وفد کے ساتھ انڈونیشیا کے وزیر مذاہب سے تین گھنٹہ تک ملاقات کی۔۷ اگست کو آپ نے خدام الاحمدیہ انڈونیشیا کے مرکزی عہدیداروں سے ملاقات کی اور ان کے اجلاس کو خطاب کیا ہے۔عشاء کے بعد مسجد جکارتہ میں آپ کی خدمت میں الوداعی ایڈریس پیش کیا گیا۔آپ نے فرمایا کہ جماعت نے جس رنگ میں حسن سلوک اور نیک جذبات کا اظہار کیا ہے میں اس کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔مکرم کمال یوسف صاحب دورہ انڈونیشیا کی روئیداد میں رقمطراز ہیں:۔150 کہ اس سفر کے دوران اللہ تعالیٰ کے فضل سے کل ۹۰ بیعتیں ہوئیں۔سنگاپور ( ۸ تا ۱۰ راگست) انڈو نیشیا کا دورہ مکمل کرنے کے بعد آپ تین روز تک دوبارہ سنگا پور میں قیام فرما رہے۔یہاں آپ کے اعزاز میں جماعت کی طرف سے استقبالیہ دیا گیا۔جس میں غیراحمدی، ہندو، سکھ اور عیسائی انگریز بھی تھے۔صاحبزادہ صاحب نے اس موقع پر ہمارے بیرونی مشن کے زیر عنوان انگریزی میں تقریر فرمائی جس کا ترجمہ مولانا محمد سعید صاحب انصاری نے کیا۔دوران قیام مشن کے بقیہ مختلف مسائل زیر غور آئے اور مشورہ ہوا۔مولانا محمد صدیق صاحب امرتسری مبلغ سنگا پور نے دورہ کی کامیابی کے لئے ہر ممکن جد و جہد فرمائی۔بنکاک تھائی لینڈ (۱۲ اگست تا ۱۴ / اگست) سنگا پور سے آپ اار اگست کو ایک بجے شب بنکاک وارد ہوئے۔آپ کی آمد کی اطلاع صرف قاضی حبیب الدین احمد صاحب ( آپ ان دنوں SEATO میں بطور لائبریرین کام کر رہے تھے ) کو تھی۔تھائی لینڈ کے مسلمانوں کے پریذیڈنٹ اور شیخ الاسلام تھائی لینڈ کی صاحبزادی آپ کے استقبال کے لئے موجود تھی۔بنکاک میں قاضی صاحب نے لنچ دیا جس میں سیٹو کے اعلیٰ افسران اور پاکستانی سفارت خانہ کے نمائندگان بھی شامل ہوئے اور