تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 520 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 520

تاریخ احمدیت 520 جلد 21 محمد دین صاحب آف تهال ضلع گجرات درویش قادیان - حضرت منشی عبدالحق صاحب خوشنویس، حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب سابق مبلغ انگلستان اور حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی نے ایک ایک اینٹ رکھی۔ازاں بعد علی الترتیب صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منورا حمد صاحب سابق نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ۔جناب سید داؤ د احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ اور حضرت صاحبزاہ مرز اطاہر احمد صاحب نائب صدر مرکزیہ نے ایک ایک اینٹ رکھی۔آخر میں خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو نو نہال صاحبزادوں یعنی مرزا لئیق احمد صاحب اور مرزا فرید احمد صاحب نے بھی ایک ایک اینٹ رکھی اس طرح مجموعی طور پر کل بارہ اینٹیں رکھی گئیں۔156 سنگ بنیا درکھنے کے بعد حضرت میاں صاحب نے ارشاد فرمایا کہ احباب اب مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس بنیاد کو ہر جہت سے حقیقی رنگ میں مبارک کرے۔اس کے اچھے نتائج ظاہر فرمائے۔اور اسے مجلس خدام الاحمدیہ اور جماعت کے لئے مضبوطی اور استحکام کا باعث بنائے اس وقت دو بچوں نے بھی بنیاد میں اینٹیں رکھیں ہیں۔ان سے میری تجویز کے مطابق ہی اینٹیں رکھوائی گئی ہیں۔یہ دونوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتوں کے بچے ہیں میں نے مناسب سمجھا کہ اس با برکت موقع پر معصوم بچوں کے ہاتھوں سے بھی اینٹیں رکھوائی جائیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس بنیاد کو جو رفقاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رکھی ہے اور جس میں دو معصوم بچوں نے بھی شرکت کی ہے بابرکت کرے اور اس کے نیک نتائج پیدا فرمائے۔“ اس کے بعد حضرت میاں صاحب نے ایک پر سوز اجتماعی دعا کرائی اور اس طرح یہ بابرکت تقریب جو دعاؤں اور ذکر الہی کے روحانی ماحول میں منعقد ہوئی اختتام پذیر ہوئی۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی بصیرت افروز تقریر 157 اس اجتماع سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے عنوان پر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے بھی ایک بصیرت افروز خطاب فرمایا۔آپ نے بتایا کہ ان حقوق کی ادائیگی کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا تعلق اپنے پیارے رب اور خالق و مالک کے ساتھ قائم ہو جائے اور تعلق باللہ شرف مکالمہ مخاطبہ الہیہ کا نام ہے۔ایک عاجز اور بے مایہ انسان جب خلوص نیت سے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا ہے تو محبت الہیہ کا ایک سمندر اپنے دل میں موجزن پاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کو سنتا ہے۔اسے بشارتیں دیتا ہے۔تب دل میں حقیقی اطمینان اور خوشی پیدا ہوتی ہے۔یہی وہ اطمینان اور خوشی ہے جو ایک انسان کے لئے اس دنیا میں سب سے بڑی نعمت اور انعام ہے۔یہی وہ نعمت ہے جو آج اسلام اور احمدیت کے طفیل ہمیں حاصل ہوئی