تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 519 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 519

تاریخ احمدیت 519 جلد 21 تقریب کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا جو صاحبزادہ مرزار فیع احمد صاحب نے کی۔تلاوت کے بعد سید داؤ د احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ نے فرمایا آج ہم اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی دی ہوئی توفیق سے خدام الاحمدیہ کے ہال کی بنیا درکھ رہے ہیں۔جہاں یہ ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے وہاں اس میں فکر و عمل کی دعوت کا بھی کچھ کم سامان نہیں ہے۔ہر ترقی جہاں خوشی کا موجب ہوا کرتی ہے وہاں اس کے ساتھ بعض نئی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔بڑی بڑی عمارتیں اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں اصل چیز وہ دل، وہ نیت ،وہ روح ہے جس کے تحت کوئی عمارت تعمیر کی جاتی ہے۔عمارتیں اور سامان اس وقت با برکت ہوتے ہیں جب وہ اصل مقصد کے حصول کا ذریعہ ثابت ہوں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اس ہال کو بھی اس رنگ میں بابرکت فرمائے کہ یہ اس مقصد کے حاصل کرنے کا ذریعہ بنے جس مقصد کے پیش نظر ہم اسے تعمیر کر رہے ہیں۔آپ کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حاضرین کو نہایت قیمتی نصائح سے نوازا۔چنانچہ آپ نے فرمایا مجھے خوشی ہے کہ مجھ کو اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے ایسی تقاریب جماعتوں اور تنظیموں کے لئے بڑی برکت سعادت اور مضبوطی کا موجب ہوتی ہیں بشرطیکہ اس روح کو سمجھا جائے جو ایسی تقریبوں کے پیچھے کام کر رہی ہوتی ہے جیسا کہ عزیز داؤ د احمد نے ابھی کہا ہے کہ اصل چیز عمارتیں نہیں بلکہ وہ روح ہے جو اس کی تعمیر میں پوشیدہ ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا تقویٰ اس کو پہنچتا ہے۔پس ایسی تقاریب بابرکت ہیں لیکن انہیں برکت سے ہمیشہ ہی بھر پور رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس روح کو زندہ رکھا جائے جس کی خاطر یہ منعقد کی جاتی ہیں۔خدام کو یا درکھنا چاہیے کہ ان کا یہ دفتر ان کے لئے ثانوی قسم کا ایک مرکز ہے وہ کھونٹا ہے جس کے ساتھ بندھ کروہ اپنی تنظیم کو اور اپنے کاموں کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔میں امید رکھتا ہوں کہ ہال اور دفتر کی تعمیر خدام میں ایک نئی زندگی دوڑانے کا موجب ہوگی۔خدام کو میری یہی نصیحت ہے کہ تم اپنی تنظیم کو ایک مرکزی کھونٹا سمجھو اور ہمیشہ اس کے ساتھ مضبوطی سے بندھے رہو۔ان زریں نصائح کے بعد آپ نے دعائیں کرتے ہوئے باری باری وہ دو اینٹیں بنیاد میں رکھیں جن پر حضرت مصلح موعود نے بھی دعا کی تھی اس کے بعد آپ نے اور ایک اینٹ نبیاد پر رکھی۔یہ بہت روح پرور منظر تھا۔حضرت میاں صاحب ہر اینٹ رکھنے کے بعد کچھ دیر اس پر ہاتھ رکھ کر دعا کرتے تھے اور ساتھ ساتھ حاضرین بھی اپنی اپنی جگہ کھڑے خدا کے حضور مصروف دعا تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس بنیاد کو احمدیت اور خدام الاحمدیہ کے لئے ہر لحاظ سے بابرکت کرے اور مثمر ثمرات حسنہ بنائے۔حضرت میاں صاحب بنیاد میں اینٹیں رکھ چکے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصحاب میں سے علی الترتیب حضرت حاجی