تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 487 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 487

تاریخ احمدیت 487 جلد 21 ہے، اس پر اگر عمل درآمد نہ کیا گیا تو اس سے عدالت کی فائدہ مند حیثیت کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ کم از کم اخلاقی طور پر لازمی ہے کہ اس پر عمل کیا جائے۔سوویت یونین جس نے کانگو اور مشرق وسطی میں اقوام متحدہ کی امن فوج پر اٹھنے والے اخراجات میں اپنا حصہ ادا کرنے سے انکار کیا ہے اس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں عدالت کی مخالفت کی قیادت کرے گا۔مغربی ممالک چاہتے ہیں کہ عالمی ادارہ مشاورتی رائے کی تائید کرے جس کا یہ مطلب ہوگا کہ جن رکن ملکوں کا دو سال سے زیادہ کا بقایا ہوگا ان کا ووٹ کا حق باقی نہیں رہے گا۔روس کی طرف پہلے ہی سے 50 ملین ڈالر واجب الادا ہیں۔چوہدری ظفر اللہ نے شروع میں یہ سوال اٹھایا کہ کیا اسمبلی کو عدالت کی مشاورتی رائے کو زبردستی نافذ کرنا چاہیے؟ انہوں نے کہا کہ ”میں اس پر اپنی رائے نہیں بتاؤں گا۔لیکن میں اس بارے میں آزاد ہوں کہ میری جو بھی رائے ہو اس کو اپنے وقت پر ظاہر کر دوں۔میں اپنی رائے کی بجائے اپنے محسوسات کا لفظ استعمال کرتا ہوں۔ان سے دریافت کیا گیا کہ ان کے خیال میں جنوبی افریقہ کے خلاف پابندیاں عائد کرنی چاہیں ؟ انہوں نے کہا کہ بحیثیت صدر میں کسی ایسے موضوع پر اظہار خیال نہیں کروں گا جو اسمبلی میں زیر بحث آنے والا ہو۔”میرے انتخاب نے مجھ پر یہ واضح پابندی لگادی ہے۔میں اسمبلی کا صدر ہوں اس لئے مجھے ان سوالات پر کوئی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔“ (باخبر حلقوں کا بیان ہے کہ جنوبی افریقہ بھی ان 72 ممالک میں شامل ہے جنہوں نے صدارت کے انتخاب کے لئے چوہدری ظفر اللہ کی تائید میں ووٹ دیا تھا اور یہ اس کے باوجود ہوا کہ پاک بھارت علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ روا ر کھے جانے والا سلوک بڑی دیر سے متنازعہ چلا آ رہا ہے۔) جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا ان کے خیال میں چین کی اقوام متحدہ میں رکنیت کے سوال کو دو تہائی اکثریت کی منظوری سے مشروط کر دینا چاہیے ؟ چوہدری ظفر اللہ نے جواب دیا اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ معاملہ کس طرح پیش کیا جاتا ہے اور صورت حال کی نزاکت کس رد عمل کا تقاضا کرتی ہے۔“ اقوام متحدہ کے پر لیس کو خراج تحسین چوہدری ظفر اللہ خاں جو لمبے عرصے سے اقوام متحدہ کے صحافتی نمائندوں کے اچھے دوست رہے