تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 486 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 486

تاریخ احمدیت 486 جلد 21 جس کا مقصد اسمبلی کے کام کی رفتار کو تیز کرنا تھا۔اسمیں تقاریر کا وقت اور مقررین کی مقدار کم کرنا بھی شامل تھا۔نئے ممبروں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہر نئے ممبر کی آمد سے دنیا کے نقشے پر تھوڑی سی تبدیلی رونما ہوتی ہے اور یہ تنظیم عالم انسانیت کا حامی بننے کے مقصد میں ایک قدم اور آگے بڑھ جاتی ہے۔۔۔آج کے دور میں سب لوگوں میں اس کی خواہش اور کوشش کی جاتی ہے کہ وہ آپس میں آزادی اور امن کی فضا میں زندگی گزاریں۔“ قرآنی حوالوں کا ذکر موجود نہ تھا چوہدری ظفر اللہ نے اپنی تقریر میں جیسا کہ وہ اکثر کرتے ہیں، قرآن کریم کی متعدد آیات کے حوالے دیئے۔لیکن حیرانی کی بات یہ تھی کہ اطلاعات عامہ کے شعبے نے ایک بھی عربی زبان کے جملے کا حوالہ نہیں دیا جو تقریر میں بیان ہوا ہو۔حالانکہ ان کے پاس بہترین مترجم موجود ہیں۔انہوں نے اپنی پریس ریلیز میں تمام قرآنی حوالوں کا ذکر غائب کر دیا اور ہم حیران ہیں کہ ان کو یہ اجازت کس نے دی کہ وہ ایک ایسے نمائندہ کی تقریر کو ایڈٹ کریں جو اسمبلی کا صدر بھی ہے۔منگل کا دن چوہدری ظفر اللہ اور پاکستان اور وزیر خارجہ حمد علی کے لئے ایک عظیم دن تھا۔مسٹر محمد علی نے ظفر اللہ کے منتخب ہونے پر بڑی خوشی کا اظہار کیا۔جیسا کہ اکثر اسمبلیوں میں ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی نازک جذباتی موضوع زیر بحث آتا ہے تو مجمع ہنگامہ خیز اور شور و غوغا کرنے والا اور قابو سے باہر ہونے والا بن جاتا ہے۔لیکن اس بارے میں ہر شخص کو یہ بھی علم تھا کہ چوہدری ظفر اللہ ایک چھا جانے والی شخصیت کے مالک ہیں اور یہ چیز ان کو اس قابل بنادے گی کہ جب ضرورت محسوس ہو وہ نظم وضبط بحال کر سکیں گے۔ووٹ پڑنے کے بعد جب جناب مونگی سلیم نے اتنے بڑے فرق کے ساتھ فتح کا اعلان کیا تو تحسین و آفرین کا شور بلند ہو حتیٰ کہ بھارتیوں نے بھی تالیاں بجائیں لیکن سیلون کے ملالا سیکر انے کوئی تالی نہ بجائی حالانکہ ہر شخص نے تسلیم کیا کہ چوہدری ظفر اللہ نے اپنی انتخابی مہم بڑی صفائی اور شائستگی سے چلائی تھی۔عالمی عدالت کے فیصلوں کے احترام کی ضرورت رائٹر نے مزید بتایا ہے کہ: چوہدری ظفر اللہ نے آج تنبیہ کی کہ عالمی عدالت انصاف نے جو یہ فیصلہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی امن قائم رکھنے والی فوج پر اٹھنے والے اخراجات تمام رکن ممالک کی مشترکہ ذمہ داری