تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 428
تاریخ احمدیت 428 جلد 21 نہایت باریک نظری سے جائزہ لیا۔اس دوران 21 اپریل 1962ء کو جماعت احمد یہ چٹا گانگ نے ایک بڑا ہال کرایہ پر لیکر پہلی بار پبلک جلسہ منعقد کیا۔جس میں شہر کے ہر طبقہ کے آٹھ سو سے زائد سامعین تھے۔ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔جلسہ میں صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے ” یورپ میں اسلام“ کے موضوع پر اور مولانا جلال الدین صاحب شمس نے اسلام کامل اور زندہ مذہب ہے“ کے موضوع پر تقاریر فرمائیں۔آخر میں بعض سوالات کے تسلی بخش جوابات دیئے گئے۔مقامی اخبارات نے اس جلسہ کی مختصر کارروائی شائع کی اگلے روز جلسہ کا اجلاس مسجد احمد یہ چٹا گانگ میں ہوا جس میں مقامی مبلغین کے علاوہ مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری نے بھی تقریر فرمائی اور حضرت مسیح موعود کے ایمان افروز حالات سنائے۔وفد بر همن بڑ یہ بھی گیا جہاں اس ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے۔وفد کے ارکان جہاں بھی تشریف لے گئے خواہ شہر ہوں یا دیہات غیر از جماعت دوستوں نے بھی دلچسپی کا اظہار کیا اور قریباً ہر جگہ علمی گفتگو ہوئی۔وفد کے دورے سے وہاں کی جماعتوں اور احمدیوں میں کام کی ایک نئی روح پیدا ہوگئی اور ان کو یہ احساس ہوا کہ ہمارے کام کا جائزہ لینے والا اور ہماری مشکلات سنے والا اور ضرورت کے موقعہ پر کوئی ہمدردی کرنے والا موجود ہے۔وفد نے واپسی پر اپنے تنظیمی تربیتی اور تبلیغی جائزہ کی مفصل رپورٹ دی۔وفد کا تاثر یہ تھا کہ جماعت احمد یہ مشرقی پاکستان کی اکثریت نہایت مخلص احمدیوں پر مشتمل ہے اور ان کے دل میں حضرت مصلح موعودؓ سے بے پناہ محبت ہے اور مرکز کا بہت احترام ہے۔البتہ جماعتی تنظیم نہایت درجہ قابل توجہ ہے۔دوسری طرف مشرقی پاکستان میں جتنا وسیع تبلیغی میدان ہے۔مغربی پاکستان میں نہیں عوام الناس میں احمد بہت سے دلچپسی پائی جاتی ہے۔تبلیغ کرنے پر لوگ توجہ سے سنتے ہیں اور استفسار کر کے ہمارا نقطہ نظر سمجھنے کی سنجیدہ کوشش کرتے ہیں۔وفد نے اپنی رپورٹ میں صوبائی انجمن ، مالی تنظیم، تبلیغی نظام، لٹریچر اور اقتصادی پروگرام سے متعلق متعد دمفید سفارشات کیں۔نگران بورڈ نے ان سفارشات پر حسب ذیل فیصلے صادر کیے۔1- صدرانجمن احمدیہ اور دیگر مرکزی ادارے مشرقی پاکستان کی جماعتوں کی براہ راست نگرانی کریں اور خط و کتابت کے سلسلہ میں جوطریق مغربی پاکستان کی جماعتوں کے ساتھ جاری ہے۔وہی مشرقی پاکستان کی جماعتوں کے لئے بھی اختیار کیا جائے۔2۔وفد اور سب کمیٹی نظارت علیا نے سفارش کی تھی کہ ایک سینئر مبلغ سارے مشرقی پاکستان کا مبلغ انچارج ہو۔مربیوں کے متعلق ہر قسم کے اختیارات اس کو حاصل ہوں اور پراونشل نظام کا اس کے ساتھ کوئی