تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 429 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 429

تاریخ احمدیت 429 جلد 21 تعلق نہ ہو اور موجودہ چار سینئر مبلغوں کے علاوہ کم از کم آٹھ اور مبلغ مبلغ انچارج کے ماتحت صوبائی فورس کے طور پر رکھے جائیں۔نگران بورڈ کی طرف سے ہدایت کی گئی کہ اس سلسلہ میں صدر انجمن احمد یہ نظارت اصلاح وارشاد سے جلد ر پورٹ حاصل کر کے نگران بورڈ میں معہ اپنی سفارشات کے ارسال کرے۔3- ہر نظارت اپنا تعلق مشرقی پاکستان کی جماعتوں کے ساتھ براہ راست رکھے نظارت بیت المال میں ایک بنگالی جاننے والا کارکن موجود ہے۔ایسا کارکن نظارت اصلاح وارشاد کو بھی دیا جائے۔4- زیادہ سے زیادہ بنگالی لٹریچر شائع کرنے کی طرف اصلاح وارشاد توجہ کرے۔5۔صوبائی امیر، مشرقی پاکستان (کی جماعتوں) کے اقتصادی حالات بہتر بنانے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل کریں جو اپنی رپورٹ امیر صاحب کی وساطت سے صدر انجمن احمد یہ کو بھجوائے۔( یہ فیصلہ صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی پیش فرمودہ ایک تجویز کی بناء پر کیا گیا ) ان فیصلوں کے علاوہ نگران بورڈ کی طرف سے صدر انجمن احمدیہ کی سفارش پر مشرقی پاکستان کی جماعتوں کے مالی نظام پر ایک کمیشن مقرر کیا گیا۔جس نے مجلس مشاورت 1964ء میں یہ رپورٹ پیش کی کہ مشرقی پاکستان کی مقامی جماعتوں کو اسی طرح سے گرانٹ دی جایا کرے جس طرح مغربی پاکستان میں دی جاتی ہے۔یہ گرانٹ بالعموم چندہ کی تسلی بخش وصولی کی صورت میں دس فیصدی دی جاتی ہے۔مشرقی پاکستان کی صوبائی انجمن کو جو گرانٹ اسوقت دی جاتی ہے۔وہ بند کر دی جائے اور صوبائی انجمن کی ضروریات کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا جائے (الف) تبلیغی اور تربیتی ضروریات جس میں اشاعت لٹریچر ، رسالہ احمدی تعلیم ، رساله جلسہ شامل ہیں ان امور کے لئے مرکز جلسہ خود انتظام کرے گا۔(ب) صوبائی امیر اور دیگر عہدہ داران کے اخراجات سفر، مہمان نوازی، ڈاک، سرکلر، کلرک، دار التبلیغ، امداد غرباء، ہنگامی اخراجات وغیرہ کے لئے مرکز مناسب گرانٹ دے گا۔اسوقت دس ہزار روپیہ گرانٹ کی سفارش کی جاتی ہے۔تفاصیل صدر انجمن احمد یہ بعد میں امیر صاحب مشرقی پاکستان کے مشورہ سے طے کرے۔مالی کمیشن کی اس رپورٹ کی مجلس شوری کے اکثر نمائندوں نے تائید کی اور حضرت مصلح موعود نے بھی اس رپورٹ کی منظوری عطا فرما دی۔یہ انقلابی فیصلے مستقبل میں مشرقی پاکستان کی مخلص جماعتوں کے لئے سنگ میل ثابت ہوئے جن سے اس سرزمین میں اشاعت حق کی رفتار بھی یکا یک تیز ہوگئی اور جماعتی نظم و استحکام میں بھی شاندار اضافہ ہوا نیز آئندہ کے لئے مرکزی وفود کے پہنچنے کی مبارک راہ کھل گئی۔