تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 417
تاریخ احمدیت 417 جلد 21 کامیاب مبلغ ہیں۔بنگال اور اڑیسہ میں ہند و احباب بھی ان کے لیکچروں سے اتنے متاثر ہیں کہ وہ خود مولانا موصوف کو بلانے کے خواہشمند رہتے ہیں۔اشاعت اسلام کے لئے مولانا صاحب ہر طریقہ سے کوشاں رہتے ہیں۔کلکتہ سے مختلف زبانوں میں ہزاروں کی تعداد میں لٹریچر کی اشاعت کا انہوں نے انتظام کیا ہے اور نہ صرف خود ہی اسلام کی اشاعت میں مصروف ہیں بلکہ جماعت کے احباب بھی اسلام کی خدمت کی تڑپ رکھتے ہیں۔۔۔۔اسی طرح مباہلہ میں شامل ہونے والے ہمارے بزرگ مولوی سید محمد محسن صاحب سونگھڑ وی ولد سید جواہر علی صاحب مرحوم سابق معلم وقف جدید ہیں۔جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ خدمت اسلام میں صرف کر دیا اور اب بھی باوجود پیرانہ سالی کے احمدیت و اسلام کی تبلیغ کا ایسا جوش ان میں پایا جاتا ہے کہ جو جوانوں میں بہت کم ملتا ہے۔سورو میں احمدیت کے بانی آپ اور مولوی محمد یونس صاحب ہیں۔یہ پودا انہی کا لگایا ہوا ہے اور اب امید ہے۔کہ اب یہ پودا جو سورو میں ان کے مبارک ہاتھوں سے لگ چکا۔بڑھے گا، پھولے گا اور پھلے گا اور کوئی طاقت اس کی ترقی میں روک نہیں ہو سکتی۔مورخہ 25 مارچ 1962 ء کو محترم مولانا بشیر احمد صاحب فاضل کے ارشاد پر آپ نے اس فہرست پر دستخط کیے تھے جو احمدی مباہلین کی تیار کر کے غیر احمدیوں کے سپرد کی گئی تھی۔میرے سامنے اب بھی وہ نظارہ ہے۔جب فہرست پر دستخط کرنے کے لئے آپ سے مولانا نے فرمایا تو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس مرد مجاہد نے دستخط کر دیئے۔حالانکہ آپ کافی عمر رسیدہ تھے اور یہ خیال آ سکتا تھا کہ معلوم نہیں میں ایک سال تک زندہ رہوں یا نہ رہوں مگر اس مرد مجاہد کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر اتنا محکم یقین تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ مباہلہ میں شامل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں ایک سال تک ضرور زندہ رکھے گا۔چنانچہ ایسے ہی ہوا۔۔۔۔مباہلہ میں شامل ہونے والے ایک اور دوست مکرم مولوی سید غلام مہدی صاحب ہیں۔جو ان دنوں بحیثیت مبلغ بھدرک میں مقیم تھے آپ محترم سید صمصام علی صاحب مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔اڑیسہ کے دوست جانتے ہیں کہ سید غلام مہدی صاحب کے والد مکرم سید صمصام علی صاحب مرحوم اسلام کے آنریری مبلغ تھے اور اڑیہ زبان کے ORATOR اور فصیح البیان مقرر تھے۔انہوں نے کیرنگ کے نو جوانوں میں اپنی پر جوش نظموں کے ذریعہ ایک انقلاب پیدا کر دیا تھا۔آج بھی ان کی نظمیں جب کسی جلسہ میں پڑھی جاتی ہیں تو وجد کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔محترم سید صمصام علی صاحب نے اپنے بچوں کو دنیا داری میں نہ لگایا بلکہ دین کی خدمت کے لئے وقف کیا۔مکرم سید غلام مہدی صاحب بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب مبلغ ہیں اور آجکل موسیٰ بنی مائنز