تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 416 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 416

تاریخ احمدیت نصیب کرے۔416 جلد 21 حیرت انگیز بات یہ تھی کہ حضرت مصلح موعود، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ، حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اور بعض دوسرے بلند پایہ بزرگوں کے جواب میں ایک خاص بات مشترک تھی اور وہ یہ کہ مباہلہ سور و جماعتی ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہو چنانچہ ان بزرگ ہستیوں نے جس رنگ کی فتح کیلئے دعائیں کی تھیں۔اسی رنگ میں وہ جناب الہی کے ہاں قبول ہوئیں اور فتح کا دروازہ جماعتی ترقی ہی کی صورت میں کھلا چنانچہ جہاں مباہلہ کے وقت سورو میں صرف تین احمدی تھے وہاں مباہلہ کے بعد اُن کے تعداد تین درجن تک پہنچ گئی۔نئے بیعت کنندگان میں قاضی محلہ مسجد کے پیش امام مولوی شمس الدین صاحب بھی شامل تھے۔یہ وہی مسجد ہے جہاں مولوی حبیب الرحمن صاحب دھام نگری نے قیام کیا تھا۔احمدی مباہلین پر افضال ربانی اس مجزا نہ ترقی کے علاوہ بفضلہ تعالیٰ جملہ احمدی مباہلین نہ صرف ہر طرح محفوظ ومصون رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے افضال و برکات سے نوازا اور ان کی عمر، صحت، ایمان اور اخلاص میں برکت بخشی۔رب کریم کے اس مشفقانہ سلوک کی تفصیلات مولوی ہارون الرشید صاحب صدر جماعت احمد یہ بھدرک کے قلم سے درج ذیل ہے۔فرماتے ہیں:۔محترم مولانا بشیر احمد صاحب فاضل جنہوں نے 18 احمدی احباب کو ساتھ لے کر دعائے مباہلہ کرائی اور دعا کے بعد مولوی حبیب الرحمان کے ایک استفسار پر یہ کہا کہ آپ بھی خدا کے عذاب سے نہیں بچ سکتے۔دعا سے قبل مولوی حبیب الرحمان صاحب اور مولوی عبد القدوس صاحب سے آپ نے جماعت احمدیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے گفتگو فرمائی۔مولانا موصوف بفضلہ تعالیٰ خدمت دین اور اشاعت اسلام کے اہم فریضہ کی ادائیگی میں شب وروز لگے ہوئے ہیں اور مباہلہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ بھی توفیق دی کہ کلکتہ جیسے بڑے شہر میں اپنی زیر نگرانی جماعت احمدیہ کی ایک عظیم الشان مسجد تعمیر کرائی یہ مسجد اس لحاظ سے یادگاری مسجد ہوگی کہ مباہلہ سورو کے بعد میعاد مباہلہ کے اندر مولانا موصوف کو اللہ تعالیٰ نے شرقی زون کے ایک بڑے شہر میں مسجد تعمیر کرانے کا زریں موقعہ عطا فرمایا۔اس کے ساتھ ہی ہندوستان کی جماعتوں میں مولانا موصوف قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔مرکز کی طرف سے آپ صوبہ بنگال واڑیسہ کے انچارج مبلغ ہیں۔نیز آجکل جماعت احمد یہ کلکتہ کی امارت کے معزز عہدے پر بھی فائز ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے کامیاب امیر اور