تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 418 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 418

تاریخ احمدیت 418 جلد 21 میں تبلیغی خدمات ادا کر رہے ہیں۔ہمارے ایک اور نوجوان مکرم عبد الرب صاحب بی اے بھی اس مباہلہ میں شامل تھے انہوں نے ہی مولوی محمد اسمعیل صاحب سونگھڑوی سے یہ فرمایا تھا کہ آپ کے ساتھ تو بہت مناظرے ہو چکے ہیں اب آپ کے ساتھ مباہلہ ہونا چاہیئے۔احباب کی آگاہی کے لئے یہ بھی تحریر کیا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ ہوا سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے ایک جماعت کی تحریک پر یہ اجازت آئی تھی کہ مولوی محمد اسمعیل صاحب کے ساتھ اگر مباہلہ کی ضرورت پیش آئے تو میری طرف سے مولانا بشیر احمد صاحب انچارج مبلغ کلکتہ کو مباہلہ کرنے کی اجازت ہے۔۔۔۔مکرم سید محمد زکریا صاحب صدر جماعت احمد یہ بھد رک با وجود اپنی علالت طبع کے مباہلہ میں شامل تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی ملازمت کے ساتھ ساتھ احمدیت کی تبلیغ کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔ان کے بھائی مکرم مولوی سید محمد یونس صاحب مقیم سور و بھی مباہلہ میں شامل تھے اور سور و میں جماعت کے قائم کرنے میں ان کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔پہلے وہ سورو میں اکیلے تھے اب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک مخلصین کی جماعت عطا کر دی ہے اور سور و کے وہ احمدی احباب جو مباہلہ میں شامل ہوئے وہ بھی بفضلہ بہت پختہ ہو گئے ہیں۔غرضیکہ جماعت احمدیہ کا ہر وہ فرد جو مباہلہ میں شامل ہوا خدا تعالیٰ کے فضلوں سے وافر حصہ لے رہا ہے اور اپنی اس خوش قسمتی پر نازاں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مسیح کی صداقت کے لئے اسے بھی منتخب فرمایا۔مباہلہ سورو کے نتیجہ میں جہاں خدائے رحیم و کریم نے اپنے پیارے مہدی موعود کی مظلوم جماعت کی خارق عادت رنگ میں تائید و نصرت فرمائی وہاں فریق ثانی کیلئے یہ مباہلہ قہر الہی کا عبرتناک نشان ثابت ہوا جو رہتی دنیا تک یادر ہے گا۔عدوان احمد بیت تغضب الہی کی زد میں حضرت شاہ عبد القادر دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ( ولادت 1753 ء وفات 1814ء) قرآنی آیت قل هو القادر على ان يبعث عليكم عذابا (الانعام: 65) کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں :۔قرآن شریف میں اکثر کافروں کو عذاب کا وعدہ دیا یہاں کھول دیا کہ عذاب وہ بھی ہے جو اگلی امتوں پر آیا آسمان سے یا زمین سے اور یہ بھی ہے کہ آدمیوں کو آپس میں لڑا دے اور اُن کو قتل یا قید یا ذلیل کرے حضرت نے سمجھ لیا کہ اس امت پر یہی ہوگا کہ اکثر عذاب الیم اور عذاب مہین اور عذاب شدید اور عذاب عظیم انہی باتوں کو فرمایا ہے۔“