تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 412 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 412

تاریخ احمدیت 412 جلد 21 جماعت میں سے زائد ممبر مقرر کر سکیں گے اور جب ضرورت محسوس کریں ان میں تبدیلی کر دیں۔اس وقت جو تین ممبر نگران بورڈ میں جماعت کے نمائندہ کے طور پر ہیں ان کی تعداد تو قائم رہے گی لیکن ان میں بھی صدر صاحب نگران بور ڈرڈ و بدل کر سکتے ہیں۔2۔نگران بورڈ کے تمام فیصلہ جات مثبت اور منفی جن میں صدر صاحب نگران بورڈ (حضرت) مرزا بشیر احمد صاحب کی شمولیت اور اتفاق رائے شامل ہو صد را انجمن احمدیہ اور مجلس تحر یک جدید اور مجلس وقف جدید کے لئے واجب العمل ہوں گے اور صدر صاحب نگران بورڈ کی وساطت سے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں اپیل کرنے کا حق سب کو ہو گا۔3- آئندہ اپریل 1962ء کے وسط میں مشرقی پاکستان کی جماعت ہائے احمدیہ کا جو جلسہ سالانہ ہو رہا ہے۔اس موقعہ پر صدر صاحب نگران بورڈ ایک کمیشن متعین فرمائیں جو وہاں جا کر مشرقی پاکستان کی جماعتوں کی ضروریات کا جائزہ لے اور پھر واپس آ کر مناسب مشورہ دے۔4 مشرقی پاکستان سے دس طالب علم جامعہ احمدیہ کے لئے ایسے لئے جائیں جن کا خرچ جامعہ احمدیہ میں تعلیم پانے کیلئے مرکز برداشت کرے۔ان طالبعلموں کے کوائف لکھ کر پہلے سے پرنسپل صاحب جامعہ احمد یہ ربوہ سے مشورہ کر لیا جائے۔جب بھی اس دس کی تعداد میں کمی آئے اس کو پورا کرنے کیلئے مزید طالب علم لئے جایا کریں نیز جو کمیشن وسط اپریل 1962ء میں مشرقی پاکستان جائے گاوہ مشرقی پاکستان کے حالات کے ماتحت نیز مرکز کے حالات کے ماتحت اس سوال کا مزید جائزہ لے کہ اس تعداد میں کس قدر مزید اضافہ کی گنجائش نکالی جاسکتی ہے۔5- مربی کو جس علاقہ میں متعین کیا جائے وہاں کی لوکل زبان سیکھنے کی اُسے کوشش کرنی چاہیے اور نظارت اصلاح وارشاد کی طرف سے اس بارہ میں بار بار تاکید ہوتی رہنی چاہئے۔6- ایک شعبہ مستقل طور پر قائم کیا جائے جس کا کام صرف رشتہ ناطہ کے معاملات کو سرانجام دینا ہو اور ایک قابل اور تجربہ کار شخص اس صیغہ کا انچارج ہو جسے ایک سمجھ دار کلرک دیا جائے اور اس غرض کے لئے اس سال بجٹ منظور کیا جائے۔علاوہ ازیں صدر صاحب نگران بورڈ کی طرف سے ایک کمیشن مقرر کیا جائے جو رشتہ ناطہ کے اہم اور نازک معاملہ کے متعلق سارے حالات اور مشکلات کا جائزہ لے کر اپنی تجاویز پیش کرے۔7- وصیت کی عمر کے متعلق وہی طریق مناسب ہے جو اس وقت رائج ہے یعنی 18 سال کی عمر سے قبل بھی وصیت کی جاسکتی ہے۔لیکن وصیت کے لئے کم از کم پندرہ سال کی عمر ہونی ضروری ہوگی جو شرعی بلوغت کی عمومی عمر ہے۔ایسی صورت میں 18 سال کی عمر ہو جانے پر وصیت کی تجدید کرنی ضروری ہوگی۔