تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 413 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 413

تاریخ احمدیت 413 جلد 21 تا کہ وصیت کو قانونی حیثیت حاصل ہو جائے اگر کسی ملک میں بلوغت کی عمر 18 سال سے کم یا زیادہ مقرر ہو تو تجدید اس کے مطابق ہوگا۔8۔ربوہ میں یتامی کے لئے ایک ادارہ قائم کیا جائے۔- آئندہ جامعہ احمدیہ میں داخلہ کا معیار کم از کم میٹرک پاس ہو اور بہتر ہوگا کہ مناسب مرحلہ پر طلباء کومولوی فاضل کا امتحان بھی پاس کروایا جائے۔اگر اس ادارہ میں ایسے طالبعلم داخل ہوں جو د نیوی تعلیم مکمل کر چکے ہوں مثلا بی اے یا ایم اے ہوں اور پھر وہ چار پانچ سال میں دینی علوم سیکھ لیں تو بہترین مربی اور عالم بن سکتے ہیں۔10 - جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل کارکنان کا گریڈ حتی الامکان ایک ہی سطح پر ہو خواہ ایسے کارکنان صدرانجمن احمدیہ میں کام کریں یا تحریک جدید میں خواہ اُن کو انتظامیہ کے لئے چنا جائے یا مربی اور مبشر مقرر کیا جائے۔پر نہ ہو۔11 - جامعہ احمدیہ کے لیکچرز اور پروفیسر صاحبان کا گریڈ حتی الوسع کالج کے واقفین لیکچرز سے کم سطح 12 - آئندہ سے جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل علماء کے درمیان کوئی ایسی تقسیم نہ کی جائے کہ ایک حصہ مستقل طور پر اندرون ملک کے لئے مخصوص ہو کر رہ جائے بلکہ اندرون ملک اور بیرون ملک کے مربیان اور مبلغین ایک باقاعدہ سکیم کے ماتحت با ہم تبدیل ہوتے رہیں۔13- عام سلوک میں یہ پوری کوشش کی جائے کہ دنیا دارانہ اداروں کا سارنگ ہمارے نظام میں سرایت نہ کرنے پائے بلکہ یہ رنگ غالب نظر آئے کہ ہم سب با وجود فرق مراتب کے ایک برادری کے افراد ہیں جو باہم سلوک اور محبت کے رشتوں میں منسلک ہیں۔مرکز میں شعبہ رشتہ ناطہ کا قیام شوری 1962 ء کی تجویز کے مطابق اس سال کے شروع میں ہی نظارت امور عامہ کے ماتحت شعبہ رشتہ ناطہ کا قیام عمل میں آیا اور اس کے افسر مولانا ظہور حسین صاحب مجاہد بخارا مقرر ہوئے۔نومبر 1963 ء سے یہ شعبہ نظارت اصلاح وارشاد میں منتقل کر دیا گیا۔مولانا ظہور حسین صاحب مئی 1964ء سے اپریل 1971 ء تک یہ خدمت بجالاتے رہے آپ کے بعد چوہدری عبدالواحد صاحب ( نائب ناظر اصلاح وارشاد ) مئی، جون 1971ء میں اس کے انچارج رہے۔جولائی 1971 ء سے اپریل 1974 ء تک