تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 411
تاریخ احمدیت 411 جلد 21 گئیں اور اسی ترتیب سے ممبران نے ان پر اپنی آراء پیش کیں نیز صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے پیش کردہ بجٹ منظور کیئے جانے کی سفارش کی جن کی تفصیل یہ ہے :- 1- میزانیہ آمد وخرچ صدر انجمن احمدیہ پاکستان پچیس لاکھ اکتالیس ہزار تین سونوے روپے۔2۔بجٹ آمد و خرج انجمن احمد یہ تحریک جدید ستائیس لاکھ پچانوے ہزار موخر الذکر بجٹ پیش ہونے سے قبل صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے فرمایا کہ ” جماعت نے جو قربانی چندوں اور واقفین مہیا کرنے کی صورت میں کی اور یورپ اور افریقہ اور دوسرے ممالک میں احمدیت کے پودے لگائے اب وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے پھولنے پھلنے لگ گئے ہیں اور شیریں پھل دینے لگے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک دفعہ کشف میں کچھ سفید پرندے دکھائے گئے تھے جن کو آپ نے پکڑا۔انہی سفید پرندوں میں سے ایک پرندہ اور شیریں پھلوں میں سے ایک پھل اسوقت ہمارے درمیان موجود ہیں۔۔۔یہ ڈنمارک کے ایک دوست ہیں۔گزشتہ سال جب میں وہاں گیا تھا تو انہوں نے بیعت کی تھی ان کا نام مسٹر بشیر حسین ٹوبی ہے۔“ اس پر ایک دراز قامت یور پی نوجوان جن کا چہرہ نہایت خوبصورت ڈاڑھی سے مزین تھا۔سٹیج پر کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے حاضرین کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا اور انگریزی زبان میں مختصر تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ میں چھ ماہ قبل ڈنمارک مشن کے ذریعہ عیسائیت کو خیر باد کہ کر اسلام میں داخل ہوا ہوں۔میری دلی خواہش تھی کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ، مرکز سلسلہ کی زیارت کا شرف حاصل کروں اور میں بہت خوش ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری یہ خواہش پوری کردی۔آخر میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ان مشوروں کو قبول کرے اور ان میں برکت ڈالے ، حضرت صاحب کو صحت دے اور نمائندگان اور زائرین کو توفیق دے کہ جو مشورے یہاں ہوئے ہیں ان کو اپنے اپنے علاقہ میں بہترین صورت میں جاری کر سکیں تا کہ جماعت اور اسلام کا ہر قدم ہر آن اوپر کی طرف اٹھتا جائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ شاندار الہام پورا ہو کہ ” بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر مینار بلند تر محکم افتا“۔سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے مجلس مشاورت کی جملہ سفارشات کو شرف قبولیت بخشا اور حضور کے فیصلہ جات کی مکمل اور مصدقہ نقل الفضل 10 جون 1962 ، صفحہ 3 تا 6 میں شائع کر دی گئی۔بعض اہم فیصلے حسب ذیل تھے۔1- صدر صاحب نگران بورڈ کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ حسب ضرورت نگران بورڈ کے لئے