تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 373 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 373

تاریخ احمدیت 373 جلد 21 نائیجیریا میں مسلمانوں کی تعلیمی و مذہبی حالت نہایت خست تھی مگر اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کی نائیجیریا میں آمد سے مسلمانوں میں ایک زبر دست انقلاب پیدا ہو چکا ہے۔دوران کانفرنس شورٹی اور لجنہ کے اجلاس بھی ہوئے۔کانفرنس سے ایک روز قبل دس زبانوں میں تقاریر کا ایک خصوصی اجلاس ہوا جو بے حد پسند کیا گیا۔نائیجیر یا پریس میں تین روز کانفرنس کا چر چار ہا۔کانفرنس سے قبل مولوی نسیم سیفی صاحب نے نائیجیریا ریپبلک کے مسلمان صدر کی خدمت میں ترجمہ قرآن کریم انگریزی اور دیگر اسلامی کتب تحفہ پیش کیں۔سیرالیون جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے 3-4 فروری 1961ء میں جماعت سیرالیون کی شاندار سالانہ کانفرنس کا انعقاد ہوا جس نے مجاہدین احمدیت اور مخلصین جماعت کے حوصلوں اور ولولوں کو نئی قوت بخشی تبلیغی دورے پیغام احمدیت پھیلانے میں ہمیشہ موثر کردار ادا کرتے ہیں جس کی طرف سیرالیون کے مجاہدین نے اپنے امیر مولوی محمد صدیق صاحب شاہد کی زیر قیادت سال کے آخر میں بالخصوص بہت توجہ دی۔چنانچہ تمبر 1961ء میں مکرم مولوی غلام احمد صاحب نسیم اور مولوی اقبال احمد صاحب نے پندرہ دن کا ایک تبلیغی دورہ کیا۔600 میل کے اس دورے میں انھوں نے مختلف مقامات پر پبلک تقاریر کیں۔متعد د سوالات کے جوابات دئے اور سینکڑوں لوگوں تک پیغام حق پہنچایا۔ماہ اکتوبر میں مکرم مولوی اقبال احمد صاحب نے سیرالیون کے شمالی اور جنوب مشرقی صوبوں کا دورہ کر کے ہیں مقامات پر تقاریر کیں اور بیسیوں سوالات کے جوابات دیے۔موصوف نے پبلک تقاریر بھی کیں۔اس دورے میں ان کے ہمراہ 2 لوکل مبلغ سعید بنگو را صاحب اور فوڈے صالح صاحب مختلف اوقات میں رہے اور ترجمان کے فرائض ادا کرتے رہے اسی دوران یو مانڈو نامی گاؤں میں نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔خود مولوی محمد صدیق صاحب جنوب مشرقی صوبہ میں تشریف لے گئے جس نے جماعتوں میں نئی بیداری پیدا کر دی۔عربی کے ایک پروفیسر گنی سے سیرالیون آئے تو احمد یہ مشن نے انہیں مدعو کیا۔ان کے ساتھ آٹھ مسلمان بھی تھے جن کی خدمت میں مشن کی طرف سے عربی اور انگریزی لٹریچر پیش کیا گیا جن سے وہ بہت متاثر ہوئے۔نومبر کے آخر میں ملکہ برطانیہ سیرالیون میں تشریف لائیں۔گورنر ہاؤس میں مولوی محمد صدیق