تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 310 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 310

تاریخ احمدیت 310 نشاندہی کی تھی جہاں حضرت خلیفہ اول کا انتخاب عمل میں آیا اور جہاں حضرت مسیح موعود کا جنازہ مبارک رکھا گیا۔اور جہاں حضور کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔چنانچہ ایک جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ایک جنازہ کی نماز سے قبل اس جنازہ گاہ میں مختصر کلمات میں حضرت عرفانی صاحب نے بھی اس نشاندہی کی تصدیق کی تھی۔خاکسار اس موقعہ پر موجود تھا۔بھائی جی نے اس جگہ کو گول چکر کی شکل میں بنوا کر وہاں پودے لگوائے اور مہینوں کئی کئی گھنٹے اکیلے یا کسی کو خود تحریک کر کے اپنے ساتھ لے جا کر وقار عمل کرتے۔جگہ ہموار کرتے مٹی اٹھا اٹھا کر ڈالتے۔پودے لگاتے ، گھاس صاف کرتے اور پانی ڈالتے۔اور بار بار دیکھنے میں آیا کہ ضعیف العمری میں ایسی مشقت کرنے سے آپ کو بخار آ جاتا لیکن با وجود اصرار اور منت سماجت کے اس کام سے نہ رکتے۔آپ کی سالہا سال کی منفر دانہ توجہ سے بحمد للہ یہ یادگار قائم ہو چکی ہے۔اور حضرت مسیح موعود کی اس یادگار کے ساتھ حضرت بھائی جی کا نام بھی وابستہ رہے گا۔آپ کو حضرت مسیح موعود کے خاندان کے تمام افراد سے بہت محبت تھی۔اور تمام افراد اس محبت کو محسوس کرتے تھے۔چنانچہ مجھے صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ( نبیرہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب) نے تحریر کیا ہے کہ بچپن سے حضرت بھائی جی سے میری وابستگی تھی۔اور آپ خاص سلوک محبت سے پیش آتے تھے۔حضرت مسیح موعود کے خاندان کے کسی نونہال سے ملاقات ہوتی تو آپ کے روئیں روئیں سے محبت پھوٹ کر ظاہر ہوتی۔آپ فرط انبساط سے ان کے ہاتھ پر بوسہ دیتے۔ان کے دکھ درد کو اپنا درد اور ان کی خوشی کو اپنی بہترین خوشی سمجھتے۔حضور کا خاندان اور احباب جماعت آپ سے بہت محبت رکھتے تھے۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قدردانی کرتے ہوئے 1950 ء سے مجالس صدر انجمن احمد یہ وانجمن تحریک جدید قادیان کا ممبر بھی اور بعد ازاں قائم مقام ناظر اعلیٰ و قائم مقام امیر مقامی بھی مقررفرمایا تھا۔اور 1955 ء سے آپ کے لئے ایک سو روپے کا ماہوار وظیفہ بھی جاری کیا تھا۔حضور یا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی طرف سے کوئی ارشاد موصول ہوتا تو ہمہ تن نیاز ہو جاتے اور وہ امر جس فرد یا افسر سے متعلق ہوتا با وجود بڑھاپے کے فوراً اس کے پاس پہنچتے اور باوجود عرض کرنے کے کہ آپ ہمیں اپنے پاس بلا لیا کریں۔آپ کیوں تکلیف فرماتے ہیں۔آپ اپنی تکلیف یا علو مرتبت کا کبھی جلد 21