تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 311 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 311

تاریخ احمدیت 311 خیال نہ کرتے۔گویا جہاں آپ کی طبیعت میں خوداری تھی وہاں حد درجہ انکساری بھی تھی۔کوئی امر قابل دعا ہوتا یا کوئی خوشی یا رنج کی خبر ہوتی تو بہت سے احباب سے انفراداً ذکر کر کے بزرگان کی خوشی یا رنج میں شرکت کرتے۔خوشی کی خبر پر بآواز بلند الحمد للہ کہنا ، اذان سنتے ہوئے مسنون طریق اختیار کرنا، بیت الذکر میں آنے والے ہر فرد کو مکمل جواب وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ کہنا ہمارے کانوں میں گونجتا ہے۔آپ نہایت با قاعدگی سے تہجد اور نماز با جماعت ادا کرنے والے بزرگ تھے۔اکثر دیکھنے میں آتا کہ آپ علالت کے باوجود با جماعت تہجد اور نماز میں تشریف لاتے۔حالانکہ آپ میں چلنے کی طاقت بھی نہ ہوتی۔اور آپ کسی درویش کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر گھر واپس پہنچتے۔مسجد مبارک میں نماز با جماعت کے وقت سے بہت پہلے تشریف لاتے اور سنن و نوافل میں دیر تک مصروف رہتے۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ کا قلب صافی کلام اللہ اور بیت الذکر سے معلق اور وابستہ ہے۔کیونکہ آپ تلاوت اور نماز با جماعت میں اپنی طاقت سے بڑھ کر کوشاں نظر آتے تھے۔آپ کو یہ امر حد درجہ مرغوب تھا۔اور اس کے لئے آپ کوشاں رہتے تھے۔کہ بیت الفکر اور مسجد مبارک کی درمیانی کھڑکی کے مغرب کی طرف اس جگہ بیٹھیں اور سنن و نوافل ادا کریں جہاں حضرت مسیح موعود مجلس میں تشریف فرما ہوتے تھے۔یا نماز ادا فرماتے تھے۔اسی طرح دیگر ایسے مقامات پر بھی با جماعت نماز کے وقت کھڑے ہوتے تھے جہاں حضور نے نماز میں پڑ ہی تھیں۔اور اس خاطر آپ نماز کے ابتدائی وقت میں مسجد میں تشریف لاتے تھے۔آپ کا سر نیاز دعاؤں کے لئے ہمیشہ درگاہ الہی پر خم رہتا۔آپ ہمارے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ تھے۔ہم آپ کی خدمت میں دعاؤں کے لئے عرض کرتے اور ہمین اطمینان ہوتا۔مکرم صاحبزادہ مرز وسیم احمد صاحب اور آپ کی بیگم صاحبہ محترمہ دعاؤں کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور دیگر افراد خاندان حضرت اقدس اور جماعت کے بلا مبالغہ ہزار ہا خطوط آپ کی خدمت میں پہنچے۔اور جب تک آپ کی صحت اچھی رہی تو ابتدا اپنے قلم سے اور بعد ازاں کسی دوسرے کے ذریعہ جواب بھجوا دیتے۔آپ نہایت رقیق القلب تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام سے شدید عشق تھا۔ان کے ذکر پر آپ کی آواز بھرا جاتی۔اور آپ جلد 21