تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 306
تاریخ احمدیت 306 جلد 21 دور دوم 11۔نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سفر مصر د عرب کے لئے تشریف لے گئے تو مرکز نے آپ کو ان کے الوداعی انتظامات کے لئے بمبئی تک بھجوایا۔12۔حضرت خلیفہ اسی الاول کے منشاء کے تحت حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد اصلح الموعود کے ہاتھوں انجمن انصار اللہ کا قیام عمل میں آیا تو آپ بھی اس کے ممبروں میں شامل ہو گئے اور ممبری کا حق ادا کیا۔دور سوم: 13۔خلافت ثانیہ کے با برکت آغاز میں آپ کو اخبار الفضل کا طابع و ناشر بنایا گیا۔تقسیم ملک (1947ء) تک آپ کو یہ فریضہ بجالانے کی توفیق ملی۔14۔12 اپریل 1914ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے حکم پر قادیان میں برٹش انڈیا کی جماعتوں کے نمائندوں کی پہلی مجلس شوری منعقد ہوئی جس کی تفصیل منصب خلافت میں ریکارڈ ہو چکی ہے۔شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کے بعد آپ نے حضرت خلیفہ اسیح کے حکم سے غیر مبائعین کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لئے پشاور تک کی جماعتوں کا سفر کیا۔15۔1923ء کے آغاز میں حضرت خلیفہ المسیح کی طرف سے تحریک شدھی کے خلاف جہاد کا اعلان ہوا۔12 مارچ کی نماز فجر کے بعد حضور نے تحریک فرمائی کہ بعض مخلصین فوراً میدان عمل میں پہنچ جائیں۔ظہر تک 120 احباب نے اپنا نام پیش کیا اور حضور نے ڈلہ کے موڑ پر اس پہلے قافلہ جہاد کو الوداع کیا۔حضرت بھائی جی کو بھی ان اولین مجاہدوں میں شمولیت کا فخر حاصل ہوا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے قلم سے الحکم 7 جون 1923ء صفحہ 2 میں آپ کے متعلق ایمان افروز تاثرات شائع ہوئے جو بہت روح پرور ہیں۔حضرت بھائی جی کم و بیش نو دس ماہ شدھی تحریک کے خلاف مصروف جہادر ہے اور اس اخلاص، جانفشانی اور بے جگری سے فریضہ تبلیغ ادا کیا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے نو جوان مبلغین کے لئے آپ کو بطور مثال پیش کیا اور آپ کی رپورٹوں کو محفوظ رکھنے کا خصوصی ارشاد فرمایا۔حضور نے 31 جولائی 1923ء کو فرمایا کہ ہندوؤں میں سے بعض ایسے لوگ اس سلسلہ میں آئے ہیں کہ ان کی خدمات اور غیرت اسلام پر رشک آتا ہے اور وہ دوسرے دس دس ہزار مسلمانوں کے مقابلہ میں ایک ہیں۔اس تعلق میں حضور نے حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی اور حضرت بھائی عبد الرحیم