تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 307
تاریخ احمدیت 307 جلد 21 صاحب قادیانی کا نام لیا۔16۔1924ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے پہلے سفر یورپ میں آپ کو بھی ہمرکابی کا شرف حاصل ہوا۔ڈائری نویسی آپ کا فرض منصبی نہیں تھا مگر آپ نے محض شوق ذاتی کی وجہ سے اپنے محبوب آقا کے حالات سفر اپنے بڑے لڑکے مہتہ عبد القادر صاحب کے نام لکھے۔جب آپ کا لکھا ہوا پہلا خط قادیان پہنچا اور بعض احباب اور بزرگوں نے بھی اسے پڑھا تو حضرت مولانا شیر علی صاحب امیر جماعت قادیان کی طرف سے آپ کو حکم پہنچا کہ ایسے خطوط براہ راست ان کے نام بھیجا کریں تا تمام دوست اپنے مقدس اور محبوب امام کے حالات سے مستفیض ہو سکیں۔چنانچہ آپ کے خطوط پہنچتے ہی باقاعدہ اعلان کر کے احباب کو جمع کیا جاتا اور مجمع عام میں ان کے سنانے کا باقاعدہ انتظام کیا جاتا تھا۔حضرت بھائی جی تحریر فرماتے ہیں: حقیقت یہ ہے کہ میں نے لندن دیکھا ہی نہیں کہ ہے کدھر اور ہے کیسا؟ کیونکہ میں اپنی ڈیوٹی سے وقت بچا کر ڈائری لکھنے اور پہنچانے میں سارا سرور اور ساری لذت محسوس کیا کرتا تھا کیونکہ یہ حس خدا نے خاص طور پر ودیعت فرمارکھی ہے کہ اپنے محبوب آقا کی جدائی کا صدمہ میرے لئے نا قابل برداشت ہوا کرتا ہے۔سو اس حسن کی وجہ سے میں اپنے بھائیوں کی تڑپ اور پیاس کا اندازہ کر کے یہ خدمت بجالایا کرتا تھا۔سوحضور کی معیت میں اگر کہیں جانے کا موقع مل گیا تو گیا مگر چلتے ہوئے بھی عمارتوں بازاروں اور بلند و بالا ایوانوں کی بجائے میری نظر اور میرا دھیان کاغذ اور اس کی تحریر ہی پر ہوا کرتا تھا۔“ 1936-17ء میں مسٹر کھوسلم مشن بج گورداسپور نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ کے فیصلہ میں حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی ذات بابرکات کی نسبت نہایت ہی گندے اور نا قابل برداشت الفاظ استعمال کئے۔اس شرمناک فیصلہ کے خلاف بطور احتجاج قادیان میں 26 مارچ اور 19 اپریل 1936 ء کو پبلک جلسے ہوئے جن میں آپ نے دو نہایت پر جوش تقاریر کیں اور باطل شکن الفاظ میں جماعت احمدیہ کے جذبات کا اظہار فرمایا۔آپ کی یہ لاجواب تقاریر 32 صفحات کا ایک کتابچہ تنقید حصہ اول بر فیصلہ مسٹر کھوسلہ سیشن جج گورداسپور میں 12 اپریل 1936ء کو چھپ گئی تھیں۔18۔1945ء میں آپ نے اصحاب احمد قادیان کی فہرست مرتب فرمائی۔1947-19 ء میں آپ کو ہجرت کر کے پاکستان آنا پڑا لیکن مئی 1948ء میں مستقل طور پر قادیان تشریف لے گئے۔آپ کے ساتھ قافلہ میں حضرت بھائی عبد الرحیم صاحب قادیانی اور بعض دوسرے اصحاب احمد بھی تھے۔آپ اس کے بعد قریباً پونے تیرہ سال تک زندہ رہے۔آپ کا مبارک وجود درویشان