تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 61 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 61

تاریخ احمدیت 61 جلد 21 غانا نا قابل تسخیر اسلامی ملک ثابت ہوا ہے۔بلکہ خود جنوب کے جنگلاتی علاقہ میں جہاں عیسائی مشنز نہایت مضبوط ہیں وفود بھیج کر اسلامی اثر ورسوخ بڑھا رہا ہے۔اوراب نائیجیریا کے آزاد ہو جانے پر ان دونوں بڑے مذاہب کے ایسے تصادم کا امکان ہے۔جواب تک کہیں اور رونما نہیں ہوا ہے۔کیونکہ یہاں اسلام اور عیسائیت نہایت جوش وخروش کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابلہ میں کمر بستہ ہیں تا کہ ان قبائل کو اپنے زیر اثر لائیں۔جو کسی مذہب سے وابستہ نہیں بلکہ تو ہماتی شرک میں مبتلا ہیں۔اس مقابلہ کے نتیجہ پر ہی افریقہ کے مستقبل کا انحصار ہے۔24 اس سال احمد یہ مشن غانا نے مولانا نذیر احمد صاحب مبشر مبلغ انچارج اور دوسرے مجاہد بین احمدیت کی سربراہی میں تبلیغی تعلیمی تربیتی اور انتظامی غرض کہ ہر اعتبار سے خوب ترقی کی جس کا خلاصہ مولانا صاحب کے الفاظ میں سپر دقر طاس کیا جاتا ہے۔تحریر فرماتے ہیں۔پہلی رپورٹ : اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمد یہ مشن غانا کے مبلغین کی تبلیغی مساعی کے نتیجہ میں جنوری سے مارچ تک 2 9 اشخاص نے اسلام قبول کیا۔خاکسار نے عرصہ زیررپورٹ میں 16 مقامات کا دورہ کیا متعد دلیکچر دیئے ایک صدلوگوں تک بذریعہ پرائیویٹ ملاقات پیغام حق پہنچایا۔123 میل سفر طے کیا بمقام بیڈوم جہاں احمد یہ جماعت خاصی تعداد میں پائی جاتی ہے۔وہاں لوکل کونسل کی طرف سے ایک سکول قائم ہے اس سکول کی عمارت بنانے میں ممبران جماعت احمدیہ نے بھی گاؤں کے دوسرے غیر مسلم لوگوں کی طرح مدد دی۔اس سکول کی مینجری رومن کیتھولک مشن کے ہاتھوں میں ہے۔حسب معاہدہ اس سکول میں ایک احمدی رکھنا ضروری تھا تا کہ دینیات کی گھنٹیوں میں مسلم طلباء کو وہ دینیات پڑھا سکے۔کئی سالوں تک اس سکول میں ہر وقت ایک احمدی ٹیچر مقرر کیا جاتا رہا ہے۔لیکن امسال رومن کیتھولک مشن نے احمدی ٹیچر کو سکول میں رکھنے سے انکار کر دیا۔اس پر میں نے علاقہ کے ایجو کیشن آفیسر کو لکھا نیز جماعت نے بھی لوکل کونسل پر زور دیا۔جس کے نتیجہ میں بجائے ایک ٹیچر کے دو احمدی ٹیچروں کے تقرر کا فیصلہ ہوا۔19 جنوری کو عزیزم