تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 62 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 62

تاریخ احمدیت 62 عبدالوہاب صاحب ( جور بوہ میں تعلیم حاصل کر کے حال ہی میں اپنے وطن روانہ ہوئے ہیں) کی والدہ ایک گاؤں میں فوت ہوگئیں۔ان کا وہاں نماز جنازہ جاکر پڑھا۔اور بعد ازاں ایک پبلک لیکچر دیا۔مؤرخہ 25 جنوری کو آکرے ڈائر یکٹر آف دور نیکولر بیر و کوترجمتہ القرآن فینٹی کے سلسلہ میں جا کر ملا۔انہوں نے کہا کہ فینٹی میں قرآن مجید کا ترجمہ کرنے پر وہ پندرہ سو پونڈ وصول کریں گے۔اشاعت کا خرچ اس کے علاوہ ہوگا۔4 ہزار نسخوں پر قریبا ساڑھے تین ہزار پاؤنڈ خرچ کا اندازہ ہے۔ڈائر یکٹر سے مزید خط و کتابت جاری ہے۔انگلش ترجمۃ القرآن کی ایک کاپی ان کے پاس ہے۔جو ان کے زیر مطالعہ ہے۔مؤرخہ 27 جنوری کو Mass ایجو کیشن آفیسر آئے۔اور انہوں نے تاریخ احمدیت پر مجھ سے بہت سے نوٹ لئے۔مؤرخہ 3 فروری کو گورنر جنرل صاحب غانالا رڈلسٹول سالٹ پانڈ تشریف لائے ان سے ملاقات ہوئی۔کافی دیر تک میرے ساتھ احمدیت کے متعلق گفتگو کرتے رہے۔گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ مجھے آپ سے احمدیت کے متعلق معلومات حاصل کر کے بہت خوشی ہوئی ہے۔مؤرخہ 4 فروری کیپ کوسٹ ہائی کورٹ میں اسحاق مرحوم آف افرانسی کی وصیت کے سلسلہ میں جج کی عدالت میں پیش ہوا۔مؤرخہ 20 فروری کو تعلیمی امور کے سلسلہ میں ایک طویل خط ڈائریکٹر سیکرٹری غانا ایجوکیشنل ٹرسٹ کو لکھا۔اور اس کی نقول پریذیڈنٹ نا نا ایجوکیشنل ٹرسٹ، وزیر اعظم نا نا اور دوسرے وزراء حکومت کو ارسال کیں۔21 فروری کو بمقام DIMPISS ایک بڑی میٹنگ منعقد ہوئی۔جس میں احباب جماعت کثرت سے تشریف لائے۔اس میں خاکسار اور مولوی عبداللطیف صاحب نے جماعت کو مخاطب کیا۔مؤرخہ 26 فروری اور 4 مارچ کو فرانسیسی سوڈان کے بعض لوگ سالٹ پانڈ مشن ہاؤس میں آئے۔انہیں سلسلہ کی تعلیم سے آگاہ کیا گیا۔اور انہیں عربی اور فرانسیسی میں کافی لٹریچر فرنچ سوڈان میں تقسیم کرنے کے لئے دیا۔مؤرخہ 23 مارچ کو ہائی کمشنر صاحب پاکستان نے پاکستان ڈے کے موقعہ پر آکرے مدعو کیا۔وہاں بہت سے معززین اور اہم شخصیات یورپین، مصری، شامی ، افریقن ، ہندوستانی اور پاکستانیوں سے ملنے کا موقعہ ملا۔30 مارچ کو برادرم قریشی فیروز محی الدین صاحب پاکستان سے تشریف لائے۔ان کے جلد 21