تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 60
تاریخ احمدیت 60 ہمارے جرمن بھائی خالد و تلف برلن میں بڑی محنت سے کام کر رہے ہیں۔انہیں بھاری مقدار میں لٹریچر مہیا کیا جاتارہا جسے وہ دلچسپی رکھنے والوں میں تقسیم کرتے رہے۔مغربی افریقہ اس سال مغربی افریقہ میں جماعت احمدیہ کے مجاہدین کی سرگرمیوں سے متاثر ہوکر ایک یورپین دانشور سیسل نارتھ کاٹ نے ایک مقالہ سپرد قلم کیا جو ” پاکستان ٹائمنز نے اپنی 11 دسمبر 1960ء کی اشاعت میں دیا ذیل میں اس کے ابتدائی حصہ کا اردو تر جمہ دیا جاتا ہے۔مغربی افریقہ میں اسلام کی پیش قدمی“ مغربی افریقہ کے ممالک کی آزادی نے ساحلی علاقوں میں اسلام کے حق میں ترقی کی ایک رو پیدا کر دی ہے۔اسلام افریقن لوگوں کے لئے ایک پیغام ہے۔کیونکہ افریقہ میں یہ اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ گویا یہ افریقہ کی کالی اقوام کا ہی مذہب ہے۔عیسائیت کے برخلاف اسلام انسانی کمزوریوں کا لحاظ رکھتے ہوئے ہر نئے آنے والے کو بسہولت اپنے اندر سمو لیتا ہے۔کیونکہ اسلام کی سادہ تعلیم کے پیش نظر اس کو رسمی قباحتوں سے دو چار نہیں ہونا پڑتا۔اس ضمن میں سیرالیون اور مغربی نائیجیر یا دو اہم علاقے ہیں سیرالیون بھی اگلے اپریل میں آزاد ملکوں کی برادری میں شامل ہو جائے گا۔مغربی نائیجیر یا وہ علاقہ ہے۔جہاں عیسائیت کا ماضی نہایت شاندار روایات کا حامل رہا ہے۔لیکن اب انہی دو علاقوں میں اسلام کونمایاں ترقی حاصل ہورہی ہے۔اور معلوم ہوتا ہے کہ سیرالیون تو احمدی مسلمانوں کی منتخب سرزمین ہے جہاں وہ پاکستان سے آئے ہوئے منظم مشنوں کے ماتحت نہایت مضبوط حیثیت میں سرگرم عمل ہیں۔احمد یہ جماعت اس مقصد کو لے کر کھڑی ہوئی ہے کہ اسلام کو عیسائیت کے مقابلہ میں موجودہ دنیا کی راہ نمائی کے لئے پیش کرے۔اور یہ عیسائیت کے لئے ایک چیلنج ہے۔اور اب تو انہوں نے سیرالیون میں با قاعدہ ڈاکٹری مشن کھولنے کا بھی عزم کر لیا ہے۔اور وہاں احمد یہ سکولوں کی تعداد بھی بتدریج بڑھ رہی ہے۔باوثوق ذرائع سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مغربی افریقہ کے ساحلی علاقوں میں اسلام عیسائیت کے مقابلہ میں دس گنا زیادہ ترقی کر رہا ہے۔نائیجیریا کا وسیع شمالی علاقہ اسلام کا گڑھ بن چکا ہے جو باوجود عیسائی مشنوں کی سالہا سال کی کوششوں کے مذہبی اعتبار سے جلد 21