تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 537 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 537

تاریخ احمدیت 537 جلد 21 کتاب ”مذہب کے نام پر خون“ کی اشاعت افسوس بہت سے دوسرے مشرقی ممالک کی طرح اس زمانہ میں پاکستان میں بھی ایسی پاکیزہ اور پُر امن فضا کا فقدان ہو چکا تھا اور اسلام اور پاکستان دونوں بدنام ہورہے تھے۔اس تشویشناک صورت حال کے پیش نظر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ( ناظم ارشاد وقف جدید ) نے 1962ء میں مذہب کے نام پر خون“ کے نام سے ایک بصیرت افروز کتاب شائع فرمائی جس میں ان نظریات اور طریقہ ہائے عمل کا فاضلانہ و عارفانہ انداز میں تجزیہ کیا جو بار ہاملکی فضا کو مکہ رکرنے کا موجب بن چکے تھے یا بن رہے تھے۔یہ کتاب پندرہ ابواب پر اس کتاب کو بلند پایہ علمی حلقوں میں بہت پذیرائی اور مقبولیت حاصل ہوئی۔اب تک اس کے تین ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔اس کا انگریزی ترجمہ امریکہ میں سید برکات احمد صاحب ( خلف الصدق حضرت محقق دہلوی) نے کیا جو چھپ کر ساری دنیا میں شائع ہو چکا ہے۔شاندار تبصرے مشتمل ہے۔1۔مولانا ابوالعطاء صاحب مدیر ” الفرقان نے اس کتاب پر حسب ذیل الفاظ میں تبصرہ کیا :- محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے نہایت موثر اور دلکش پیرایہ میں ان لوگوں پر بھر پور وار کیا ہے جو اسلام کو تلوار یا جبر یا تشہ دکا مذہب قرار دیتے ہیں۔اس ضمن میں آپ نے مودودی صاحب کے نظری قتل مرتد کے پر خچے اڑا دیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے صاحبزادہ صاحب کو فکر صائب اور دلنشیں انداز تحریر عطا فرمایا ہے۔2:۔مشہور سکھ سکالر سردار شمشیر سنگھ صاحب اشوک محکمہ پنجاب پٹیالہ نے اس پر مفصل تبصرہ کیا جو پنجابی کے ممتاز ماہنامہ ”جیون پریتی پٹیالہ کے مارچ 1963 ء کے پرچہ میں چھپا۔ذیل میں اس کا ترجمہ جناب عباداللہ صاحب گیانی کے قلم سے دیا جاتا ہے:۔66 سردار صاحب موصوف نے اپنے تبصرہ کی ابتدا میں لکھا:۔174 یہ کتاب جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے۔مذہب کے نام پر کئے گئے مظالم کی تاریخ ہمارے سامنے پیش کرتی ہے۔فاضل مصنف نے اس میں جگہ جگہ اسلامی کتب اور دوسرے لٹریچر کے حوالہ جات پیش کئے ہیں۔اور ثابت کیا ہے کہ سچا مذ ہب کبھی کسی شخص کو بدی یا مذہب کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے کی تلقین نہیں کر سکتا۔لیکن اقتدار کے