تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 536
تاریخ احمدیت 536 جلد 21 بغیر نہ رہ سکیں گے کہ اپنے عقائد اسے دنیا کی ہر چیز سے بڑھکر عزیز ہیں اور مذہب کے معاملہ میں وہ سب سے بڑھ کر سنجیدہ آدمی ہے۔ایک اور صاحب نے سوال کیا کہ کیا مسیح موعود علیہ السلام کے بعد اور بھی نبی آسکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔ضرور آ سکتے ہیں کیونکہ یا بنی آدم والی آیت میں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔اس لئے لازماً اور نبی بھی آئیں گے۔اس پر انہی صاحب نے مزید سوال کیا کہ مسیح موعود علیہ السلام کے تشریف لانے پر اُمت مسلمہ میں سے بہت کم لوگ ایسے ہیں جنہوں نے آپ کو قبول کیا۔اور اس طرح حق کو ماننے والے دنیا میں مٹھی بھر رہ گئے۔اب کل کوئی صاحب احمدیوں میں سے اُٹھ کر کہیں کہ خداوند نے مجھے مقام نبوت پر سرفراز فرمایا ہے تو پھر ان مٹھی بھر افراد میں سے بھی کچھ تو مان لینگے۔اور کچھ انکار کر دیں گے۔اور اس طرح حق کو ماننے والے تقسیم در تقسیم ہوتے چلے جائیں گے۔کجا یہ کہ وہ دنیا پر غالب آئیں۔اس سوال پر حاضرین میں کافی اشتیاق اور دلچسپی پیدا ہوگئی۔اور وہ میاں صاحب کا جواب سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہو گئے۔آپ نے نہایت اطمینان سے فرمایا کہ جب کوئی دعویٰ کریگا تو دوصورتوں میں سے ایک ضرور ہوگی۔یا تو وہ سچا ہو گا یا جھوٹا۔اگر جھوٹا ہوگا تو قرآن مجید کی رُو سے ہمیں یقین ہے کہ خداوند قہار اُسے ہلاک کر دیگا۔اور اگر وہ سچا ہے تو پھر اُمت مسلمہ کی فکر ہم سے زیادہ خدا کو ہونی چاہیئے۔یہ جواب سنکر تمام حاضرین کے چہروں پر یقین واطمینان کی لہر دوڑ گئی۔گفتگو کے اختتام پر جب آپکی خدمت میں گزارش کی گئی کہ دعا فرما دیں۔تو آپ نے پھر ایک معرفت کا نکتہ بیان فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ دُعا کے ساتھ ہمیشہ کریں“ کے الفاظ استعمال کرنے چاہئیں۔کیونکہ دعا کرنے والا خواہ کتنا بڑا بزرگ ہی کیوں نہ ہو۔خدا عز وجل کی بارگاہ میں دُعا فرماتا نہیں۔بلکہ گڑ گڑاتا ہے۔اس لئے دعا کے ساتھ زیادہ سے زیادہ جو لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے دُعا کریں ہے نہ کہ دعا فرمائیں۔میاں صاحب کی درویشانہ طبیعت ، انداز گفتگو اور اخلاص نے یہاں کے جملہ احباب کو دل کی گہرائیوں تک متاثر کیا۔آپ کی ایک ایک بات حاضرین کے دل میں اُترتی چلی گئی۔یوں محسوس ہوتا تھا گویا کوئی مقناطیسی قوت ہے جو دلوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔وہ مجلس تو بہت جلد ختم ہوگئی۔مگر اس کی حلاوت اب تک قلوب میں باقی ہے۔173