تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 538 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 538

تاریخ احمدیت 538 جلد 21 بھو کے ملاں۔مولوی یا دوسرے دھرم پر چارک جو مذہب یعنی دھرم کی حقیقی روح سے نا آشنا ہوتے ہیں۔مقدس کتب کے من پسند معنے بیان کر کے اور تاریخی روایات کو بگاڑ کرنا واقف اور ان پڑھ لوگوں کو مذہب کے نام پر مشتعل کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ فلاں مومن ہے اور فلاں کا فر۔کافروں کو قتل کر دو اور ان کے گھر لوٹ لو۔۔۔“ سردار صاحب موصوف نے فرقہ بندیوں کے جھگڑوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ۔" کچھ احراری مسلمانوں نے جن کے ساتھ مولانا مودودی صاحب صف اول میں ہیں 1953ء میں اپنے بعض عقیدت مند مسلمانوں کو احمدی مسلمانوں کے خلاف مشتعل کیا جس کی وجہ سے 1947 کی مانند ہی پاکستان میں فتنہ کی آگ بھڑک اٹھی اور متعدد بیگناہ احمدی لوٹے گئے اور مارے گئے۔گو بعد میں حکومت نے کوشش کر کے مجروں کو پکڑا اور امن بحال کر دیا۔تاہم مذہبی جوش کا نتیجہ بُرا ہی نکلا۔پاکستان میں نہ صرف احمدی مسلمان ہی بلکہ دیو بندی، وہابی، بریلوی وغیرہ بھی جو کسی ایک فرقہ سے باہر ہیں دوسروں کی نظر میں کافر ہیں۔یہ ہیں وہ اسلامی فرقے جنہوں نے ایک مذہبی ملک میں خود اس مذہب کو ہی خطرہ میں ڈالا ہوا ہے۔“ ”اس میں شک نہیں کہ احمدی مسلمان اپنے بانی حضرت مرزا غلام احمد (علیہ السلام) کو امام مہدی اور نہ کلنک اوتار تسلیم کرتے ہیں جس سے متعلق قدیم اسلامی اور غیر اسلامی لٹریچر میں کئی قسم کی پیشگوئیاں (Predication) پائی جاتی ہیں۔احمدی مسلمانوں کے یہ اپنے ذاتی خیالات ہیں۔اگر دوسرے مسلمان ان کے اس عقیدہ کو درست تسلیم نہیں کرتے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ احمدیوں کو اپنا ہم خیال بنانے کے لئے ان پر جبر یا تشدد کیا جائے یہ تو کسی ایک طبقہ کو سوئی کے نا کہ میں سے گزار نیوالی بات ہوگی۔جو کسی طرح بھی ممکن اور مناسب نہیں کیونکہ تشددخواہ کسی فرقہ کی طرف سے کیا جائے ہمیشہ خدائے رحیم سے دوری اور قابل نفرت ہے۔“ سردار صاحب اپنے اس تبصرہ میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔جہاں تک اسلام کی تبلیغ کا تعلق ہے۔یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ احمدی مسلمانوں نے اپنے دین اسلام کی تبلیغ کے لئے عملی صورت میں جتنی سرتوڑ کوشش کی ہے وہ شائد ہی عرب کے خلفاء راشدین کے بعد کسی اور اسلامی جماعت نے کی ہو۔آپ لوگوں نے