تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 524
تاریخ احمدیت 524 جلد 21 چپو خود اپنے ہاتھوں میں سنبھال لے۔جب ہمیں یہ خدائی نصرت حاصل ہو جائے گی تو کامیابی بھی یقینی ہوگی اور آپ لوگوں کو بھی یقیناً بے حساب ثواب حاصل ہوگا اور اگر دیکھا جائے تو یہ ثواب دراصل مفت کا ثواب ہوگا کیونکہ کشتی بھی خدا کی ہے اور کشتی کا چلانے والا بھی خدا کا ہاتھ ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا ہی خوب فرمایا ہے کہ۔بمفت ایں اجر نصرت را دہندت اے اخی ورنہ قضائے آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا 66 اس کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے اطفال الاحمدیہ، خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے نظاموں اور ان کے باہمی ربط اور گہرے تعلق کو واضح کرنے کے بعد انصار اللہ کو جماعت احمدیہ کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور انہیں ان کے فرائض کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بیش بہا نصائح سے نوازا اور اسلامی احکام کی بعض پر حکمت باریکیوں کو ایسے دلنشین انداز میں واضح فرمایا کہ سامعین پر وجد کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔اس تعلق میں آپ نے تبلیغ اور تربیت کے بنیادی فریضے ، جماعتی میوزیم کے قیام میں انصار اللہ کے تعاون کی اہمیت، اسلامی پردہ کے قیام اور آئندہ نسل کی تربیت کے ضمن میں ان کی اہم اور خصوصی ذمہ داریوں نیز ملک میں بھوک ہڑتال کے بڑھتے ہوئے سراسر غیر اسلامی رجحان اور بیاہ شادیوں میں اسراف اور ناجائز مطالبات کے انسداد پر خاص زور دیا مزید برآں آپ نے انصار اللہ کو علمی خدمت کے لئے تحریر کا ملکہ پیدا کرنے ، کتب سلسلہ کے امتحانات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور علی الخصوص مالی قربانیوں میں پیش پیش رہنے کی نہایت زور دار الفاظ میں تلقین فرمائی۔علاوہ ازیں آپ نے رسالہ انصار اللہ کی ترتیب و تدوین اور اس کے مضامین پر خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی اشاعت کا حلقہ وسیع کرنے اور اس کے لئے معیاری مضامین لکھنے کی بھی موثر تحریک فرمائی۔اجتماع کے دوسرے روز ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب ( معالج خصوصی حضرت مصلح موعود ) نے حضور کی علالت اور علاج سے متعلق تفصیلی کو الف بیان فرمائے۔ICE اور کامل شفاء یابی کے لئے دعا کی دردانگیز تحریک کی۔جس پر تمام احباب نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس کی اقتداء میں نہایت در دو سوز ، تضرع اور ابتہال اور خشوع خضوع سے دعا کی۔165 اسی روز حضور نے ازراہ شفقت اجتماع کے ایک نمائندہ وفد کو جو مختلف اضلاع کے 30 خوش نصیب انصار پر مشتمل تھ ملاقات کا شرف عطا فرمایا۔اس وفد کی سرکردگی کی سعادت محترم شیخ محبوب عالم صاحب خالد ایم اے قائد عمومی کو نصیب ہوئی۔100